اسلام آباد: پاکستان اور قطر نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس کے اجلاس میں متعدد شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق متعلقہ پاکستانی وزارتوں کے نمائندوں نے اجلاس میں ورچوئل شرکت کی جبکہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے پاکستان کی جانب سے رابطہ کاری اور سیکریٹریٹ کی ذمہ داریاں انجام دیں۔
اجلاس میں جدید زراعت، غلہ ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور جدید زرعی ٹیکنالوجی میں قطری سرمایہ کاری کے امکانات نمایاں طور پر زیر بحث آئے۔ پاکستان نے زرعی پیداوار اور خوراک کی ویلیو چین میں سرمایہ کاری کے لیے دستیاب مواقع پیش کیے، جبکہ دونوں فریقوں نے ان شعبوں میں کاروباری تعاون کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
بات چیت میں دوطرفہ تجارت بڑھانے کے ساتھ مالیاتی روابط، سرمایہ کاری کی سہولت کاری اور لاجسٹکس سے متعلق رکاوٹوں پر بھی توجہ دی گئی۔ پاکستان اور قطر کے درمیان توانائی اور افرادی قوت کے شعبوں میں پہلے سے روابط موجود ہیں، اور مشترکہ ٹاسک فورس کا مقصد ان تعلقات کو دیگر پیداواری اور تجارتی شعبوں تک پھیلانا ہے۔
اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے سے متعلق امور کا بھی ذکر ہوا۔ پاکستان طویل عرصے سے جی سی سی کے ساتھ تجارتی فریم ورک کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے خلیجی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی اور سرمایہ کاری کے نئے راستے پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم زیر بحث تجاویز اور سرمایہ کاری کے امکانات کو حتمی معاہدوں کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا جب تک متعلقہ فریق باضابطہ شرائط اور منصوبوں کی منظوری نہ دیں۔
مشترکہ ٹاسک فورس کی سرگرمی پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی شراکت داری بڑھانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار مجوزہ منصوبوں کی تکنیکی و مالی جانچ، نجی شعبے کی شمولیت اور دونوں حکومتوں کے درمیان فالو اپ فیصلوں پر ہوگا۔
