پاکستان نے ستمبر میں قطر سے دوسرا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کارگو حاصل کر لیا ہے جو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد پورٹ قاسم کی جانب بڑھ رہا ہے۔ 22 ستمبر 2026 کو رپورٹ ہونے والی تفصیلات کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کھیپ کے محفوظ گزرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں ایرانی حکام بھی شامل رہے۔ کارگو کی آمد ایسے وقت متوقع ہے جب ملک کے توانائی نظام کو گیس کی فراہمی میں مختلف رکاوٹوں اور بعض علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کے ایک اہلکار کے مطابق تازہ ایل این جی کارگو آبنائے ہرمز کامیابی سے عبور کر چکا ہے۔ یہ ستمبر کے دوران پاکستان کے لیے قطر سے آنے والی دوسری کھیپ ہے۔ اس سے قبل 10 ستمبر کو قطر کے راس لفان ٹرمینل سے روانہ ہونے والا جہاز ال مرونہ تقریباً 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر پاکستان پہنچا تھا۔ وہ جہاز 7 ستمبر کو آبنائے ہرمز سے گزرا تھا۔
حکام کے مطابق تازہ کھیپ بھی طویل مدتی حکومت سے حکومت ایل این جی انتظام کے تحت حاصل کی گئی اور اس کی قیمت برینٹ خام تیل کے 13.37 فیصد کے مساوی بتائی گئی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اضافی گیس بجلی کے شعبے کو عارضی سہارا دے گی۔ مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ چھ سے بارہ گھنٹے تک رپورٹ ہوا ہے، تاہم بجلی کی مجموعی صورتحال پر کارگو کے حقیقی اثر کا انحصار گیس کی ترسیل، بجلی گھروں کی دستیابی اور دیگر ایندھن ذرائع پر ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق 21 ستمبر کو گیس نیٹ ورک کا لائن پیک 4,792 ایم ایم سی ایف تھا جبکہ بجلی کے شعبے کی کھپت تقریباً 208 ایم ایم سی ایف یومیہ ریکارڈ کی گئی۔ کھاد کے شعبے کی گیس کھپت 89 ایم ایم سی ایف یومیہ رہی۔ اسی دوران بعض مقامی گیس فیلڈز اور پلانٹس سے سپلائی میں تکنیکی یا انتظامی وجوہ کی بنا پر کمی رپورٹ ہوئی، جن میں قادرپور، نیشپا اور دیگر تنصیبات شامل ہیں۔
حکام نے یہ بھی کہا کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے نیٹ ورک پر کسی ذریعے سے جبری گیس کٹوتی نہیں کی جا رہی۔ قطر سے آنے والا نیا کارگو فوری طور پر ملک کی پوری توانائی قلت کا مستقل حل نہیں، لیکن موجودہ محدود سپلائی میں اضافی حجم فراہم کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی علاقائی سلامتی کی اہمیت کے باعث ایل این جی جہازوں کی نقل و حرکت پاکستان کی توانائی منصوبہ بندی کے لیے بھی اہم بنی ہوئی ہے۔

