لاہور: پاکستان ریلوے نے ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے مین لائن ون منصوبے کے کراچی سے روہڑی حصے کی اپ گریڈیشن کے لیے دوسری پری مارکیٹ مشاورت مکمل کرلی ہے۔ حکام کے مطابق اجلاس میں ملکی اور بین الاقوامی کنٹریکٹرز، کنسلٹنٹس، آلات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور مینوفیکچررز سمیت 134 شرکا نے حصہ لیا۔
پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق مشاورت کے دوران منصوبے کے مختلف تکنیکی، تعمیراتی اور خریداری سے متعلق پہلوؤں پر آرا اور تجاویز لی گئیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مارکیٹ سے ملنے والی رائے کو خریداری کی حکمت عملی مرتب کرنے اور منصوبے کی تیاری کو مزید مضبوط بنانے میں استعمال کیا جائے گا، تاکہ مسابقتی اور شفاف پروکیورمنٹ کا عمل تشکیل دیا جاسکے۔
ایم ایل ون کے پہلے مرحلے میں تقریباً 480 کلومیٹر طویل کراچی-روہڑی یا سکھر سیکشن شامل ہے۔ منصوبے کے تحت نئی اپ اور ڈاؤن پٹریاں بچھانے، غیر مجاز آمدورفت روکنے کے لیے دونوں اطراف باڑ لگانے اور متعلقہ ریلوے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس حصے پر سول ورکس جنوری 2027 میں شروع ہونے کا امکان بتایا گیا ہے اور تعمیراتی مدت دو سے تین سال ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے کی تخمینی لاگت 2.5 ارب ڈالر ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے بنیادی مالی معاونت متوقع ہے، جبکہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، عالمی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور دیگر شراکت داروں سے مشترکہ مالی معاونت کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔
منصوبے کے دائرہ کار میں کیماڑی-لانڈھی-حیدرآباد، حیدرآباد-نوابشاہ اور نوابشاہ-روہڑی حصوں میں ٹریک کی تعمیر نو، محدود ری الائنمنٹ، پلوں، کلورٹس، اسٹیشنوں، فریٹ یارڈز اور عمارتوں سے متعلق کام شامل ہیں۔ سگنلنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن نظام کی اپ گریڈیشن اور والٹن اکیڈمی کی بہتری بھی منصوبے کا حصہ بتائی گئی ہے۔
پاکستان ریلوے کے مطابق کراچی-روہڑی راہداری مسافر اور مال بردار ٹریفک کے لیے انتہائی اہم ہے۔ حکومت اسے ریلوے کی حفاظت، کارکردگی اور قابل اعتماد آپریشن بہتر بنانے کی ترجیحی کوشش قرار دے رہی ہے۔ پری مارکیٹ مشاورت منصوبے کی منظوری یا تعمیراتی معاہدے کا متبادل نہیں بلکہ آئندہ خریداری اور عمل درآمد کی تیاری کا مرحلہ ہے۔




