اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کلین انوائرنمنٹ فنڈ کمپنی کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ، آلودگی میں کمی اور متعلقہ منصوبوں کے لیے مالی وسائل متحرک کیے جا سکیں۔ ڈان کی 27 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یہ ادارہ ایک غیر منافع بخش کمپنی کے طور پر قائم کیا گیا تھا لیکن ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک مؤثر طور پر غیر فعال رہا۔
حکومتی فیصلے کا مقصد ایسے وقت میں ماحولیاتی فنانسنگ کے لیے ایک ادارہ جاتی پلیٹ فارم بحال کرنا ہے جب پاکستان کو فضائی آلودگی، پانی کے معیار، کچرے کے انتظام، موسمیاتی خطرات اور شہری ماحولیاتی دباؤ سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ فنڈ کمپنی کے ذریعے سرکاری اور ممکنہ طور پر دیگر مالی ذرائع سے وسائل جمع کر کے مخصوص ماحولیاتی منصوبوں کی معاونت کی جا سکتی ہے، تاہم ہر منصوبے کی منظوری اور فنانسنگ متعلقہ قواعد اور دستیاب وسائل سے مشروط ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی کے انتظامی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو دوبارہ فعال کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ طویل عرصے تک غیر فعال رہنے کے باعث اس کے گورننس انتظامات، بورڈ کی فعالیت اور مالی طریقہ کار کو عملی شکل دینا بنیادی مرحلہ ہوگا۔ محض ادارہ بحال کرنے کا فیصلہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ فوری طور پر بڑے پیمانے پر فنڈنگ دستیاب ہو جائے گی۔
پاکستان عالمی ماحولیاتی اشاریوں میں کئی شعبوں میں کمزور کارکردگی کا سامنا کرتا رہا ہے۔ بڑے شہروں میں سموگ اور فضائی آلودگی، دریاؤں اور زیر زمین پانی کی آلودگی اور ٹھوس فضلے کے انتظام کی مشکلات نے ماحولیاتی سرمایہ کاری کی ضرورت بڑھائی ہے۔ حکومت کے مطابق بحال شدہ فنڈ ان شعبوں میں منصوبہ بندی اور مالی وسائل کے حصول کے لیے ایک مستقل ذریعہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
ماحولیاتی فنانسنگ میں شفافیت اور منصوبوں کے قابل پیمائش نتائج اہم ہوں گے۔ ماضی میں مختلف سرکاری فنڈز کے مؤثر استعمال، نگرانی اور ادارہ جاتی تسلسل کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں، اس لیے کلین انوائرنمنٹ فنڈ کی کامیابی کا انحصار واضح گورننس، باقاعدہ آڈٹ اور منصوبوں کے نتائج کی نگرانی پر ہوگا۔
موجودہ پیش رفت کو کمپنی کی بحالی اور فعال کرنے کے حکومتی فیصلے کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ ابھی کسی مخصوص منصوبے کے لیے حتمی مالی رقم یا بڑے نئے اخراجات کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی، اس لیے مستقبل کی سرمایہ کاری کے حجم کے بارے میں اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔
