پاکستان کے حقیقی موثر شرح مبادلہ، یعنی ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (REER)، کا انڈیکس جولائی 2026 میں بڑھ کر 107.92 ہوگیا۔ جون 2026 میں یہ انڈیکس 106.33 تھا، اس طرح ایک ماہ کے دوران اس میں 1.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں انڈیکس 99.98 تھا، جس کے مقابلے میں تازہ سطح 7.94 فیصد زیادہ ہے۔

REER کسی ایک کرنسی کے مقابل روپے کی قیمت نہیں بتاتا بلکہ پاکستان کے اہم تجارتی شراکت داروں کی کرنسیوں کے مقابل روپے کی قدر کو تجارت کے وزن اور مختلف ملکوں میں مہنگائی کے فرق کے مطابق یکجا کرکے دکھاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس پیمانے کی حرکت عام ڈالر ریٹ سے مختلف ہوسکتی ہے۔ انڈیکس میں اضافہ عمومی طور پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی کے فرق کو شامل کرنے کے بعد روپیہ تجارتی شراکت داروں کی کرنسیوں کے مقابل نسبتاً مضبوط ہوا، تاہم صرف اسی عدد سے یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ کرنسی لازماً مہنگی یا سستی ہے۔

جولائی میں نامیاتی موثر شرح مبادلہ، یعنی نومینل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (NEER)، بھی 38.14 سے بڑھ کر 38.32 ہوگیا۔ یہ ماہانہ بنیاد پر 0.47 فیصد اضافہ ہے۔ جولائی 2025 کے 37.51 کے مقابل تازہ سطح 2.18 فیصد بلند رہی۔ NEER میں مختلف کرنسیوں کے مقابل روپے کی نامیاتی حرکت شامل ہوتی ہے، جبکہ REER اس میں متعلقہ ملکوں کی قیمتوں اور مہنگائی کا اثر بھی شامل کرتا ہے۔

رپورٹ شدہ اعداد کے مطابق جولائی 2026 میں امریکی ڈالر کے مقابل روپے کی اوسط یا اختتامی حوالہ سطح 277.804 روپے رہی۔ جون میں یہ 278.161 روپے اور جولائی 2025 میں 282.871 روپے تھی۔ اس تقابل سے جولائی میں ماہانہ بنیاد پر روپے کی 0.13 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 1.79 فیصد مضبوطی سامنے آتی ہے۔

موثر شرح مبادلہ کے اعداد برآمدی مسابقت، درآمدی لاگت اور بیرونی شعبے کے دباؤ کو سمجھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن انہیں کرنٹ اکاؤنٹ، زرمبادلہ ذخائر، ترسیلات زر، برآمدات، درآمدات اور ملکی مہنگائی کے ساتھ ملا کر دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ زیادہ REER برآمد کنندگان کی قیمت کے لحاظ سے مسابقت پر دباؤ ڈال سکتا ہے، جبکہ نسبتاً مضبوط روپیہ درآمدی اشیا کی مقامی لاگت کو محدود کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ عملی اثر کا انحصار توانائی کی قیمتوں، عالمی طلب، پیداواری لاگت اور مالیاتی پالیسی سمیت متعدد عوامل پر رہتا ہے۔

جولائی کی تازہ حرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ روپے کی نامیاتی قدر اور مہنگائی کے فرق دونوں نے موثر شرح مبادلہ کو اوپر دھکیلا۔ آئندہ مہینوں میں اس رجحان کی پائیداری کا اندازہ نئے تجارتی اعداد، افراط زر اور بینکوں کے درمیان زرمبادلہ بازار کی حرکت سے ہوگا۔ اردو ہیڈ لائنز ڈیسک نے رپورٹ میں انڈیکس کے اعداد اور ان کی تکنیکی تشریح کو الگ رکھا ہے تاکہ قاری اسے روپے کی روزانہ قیمت کے مساوی نہ سمجھے۔