اسلام آباد: رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران نو علاقائی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 4.97 ارب ڈالر ہو گیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 4.13 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 20.4 فیصد زیادہ ہے۔ سرکاری تجارتی اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ کے مطابق خطے کے ساتھ درآمدات کی رفتار برآمدات کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔

جولائی سے ستمبر کے دوران ان نو ممالک کو پاکستان کی برآمدات تقریباً 1.2 ارب ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات 6.17 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئیں۔ اس طرح علاقائی تجارت میں پاکستان کا مجموعی توازن واضح طور پر منفی رہا۔ رپورٹ میں چین، بنگلہ دیش، افغانستان، بھارت، سری لنکا، نیپال، مالدیپ، بھوٹان اور ایران کو زیر جائزہ علاقائی شراکت داروں میں شامل کیا گیا ہے۔

چین پاکستان کا سب سے بڑا علاقائی تجارتی شراکت دار ہے اور مجموعی خسارے میں بھی اس کا حصہ سب سے نمایاں ہے۔ چینی مشینری، برقی آلات، صنعتی خام مال اور دیگر مصنوعات کی درآمدات پاکستان کی مجموعی درآمدی ضروریات کا اہم جزو ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کی چین کو برآمدات نسبتاً محدود ہیں، جس کے باعث دوطرفہ تجارت میں بڑا فرق برقرار ہے۔

علاقائی تجارت میں خسارہ بذات خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ ہر درآمد معیشت کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ مشینری، صنعتی اجزا اور خام مال جیسی درآمدات مقامی پیداوار اور برآمدی صنعتوں کے لیے ضروری ہو سکتی ہیں۔ تاہم مسلسل بڑا فرق زرمبادلہ کی طلب بڑھاتا ہے اور پالیسی سازوں کے لیے برآمدی تنوع، مسابقت اور علاقائی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں وسطی و جنوبی ایشیا کے ساتھ تجارتی رابطوں، ٹرانزٹ راستوں اور علاقائی اقتصادی تعاون بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے باوجود پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ برآمدات اور درآمدات کے درمیان فرق ابھی وسیع ہے۔ مستقبل میں اس خسارے کی سمت عالمی اجناس کی قیمتوں، روپے کی قدر، صنعتی طلب، چین کے ساتھ تجارت اور افغانستان سمیت پڑوسی منڈیوں میں تجارتی حالات سے متاثر ہوگی۔