کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی جانب سے ملک کو 3.7 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ مرکزی بینک نے 9 ستمبر کو اگست کے لیے ورکرز ریمیٹنس کے اعداد و شمار جاری کیے، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ایزی ڈیٹا پورٹل پر ملک وار ترسیلات زر کا تازہ ڈیٹا بھی اسی تاریخ کو جاری ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق اگست میں ترسیلات زر میں جولائی 2026 کے مقابلے میں ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتے کے لیے اہم زرمبادلہ کا ذریعہ ہیں اور ان کی ماہانہ رفتار درآمدی ادائیگیوں، جاری کھاتے اور زرمبادلہ کی مجموعی دستیابی کے تناظر میں دیکھی جاتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ڈیٹا کیلنڈر میں اگست 2026 کے لیے ملک وار ورکرز ریمیٹنس اور سیزنلی ایڈجسٹڈ ترسیلات زر کی اشاعت 9 ستمبر تک مقرر تھی۔ مرکزی بینک کی ویب سائٹ پر اسی روز جاری پریس ریلیز کو تازہ اپ ڈیٹس میں شامل کیا گیا، جس سے اعداد و شمار کے سرکاری اجرا کی توثیق ہوتی ہے۔
ماہانہ بنیاد پر ایک فیصد اضافے کا مطلب یہ ہے کہ اگست میں رقوم کی آمد گزشتہ ماہ سے قدرے بہتر رہی، تاہم کسی ایک مہینے کی تبدیلی سے طویل مدتی رجحان اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ ترسیلات زر کے پائیدار رجحان کا جائزہ مالی سال کے مجموعی اعداد، مختلف ممالک سے آنے والی رقوم اور باضابطہ بینکاری چینلز کے استعمال کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
پاکستانی معیشت میں ترسیلات زر گھریلو آمدن اور زرمبادلہ دونوں حوالوں سے نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ تازہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پالیسی ساز بیرونی مالی ضروریات، زرمبادلہ کے ذخائر اور ادائیگیوں کے توازن پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگست کے اعداد کی مزید تفصیل، بشمول ملک وار تقسیم، اسٹیٹ بینک کے سرکاری ڈیٹا پلیٹ فارم پر دستیاب ہے۔




