کراچی: پاکستان میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں اگست 2026 کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ماہانہ ترسیلات 3.66 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 16.5 فیصد زیادہ ہے، جس سے ملک کے بیرونی کھاتے کو اہم سہارا ملا ہے۔
اگست کی آمد کے بعد رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، میں مجموعی ترسیلات زر تقریباً 7.3 ارب ڈالر ہوگئیں۔ ترسیلات زر پاکستان کے زرمبادلہ کے اہم ذرائع میں شمار ہوتی ہیں اور درآمدی ادائیگیوں، جاری کھاتے اور گھریلو آمدنی پر ان کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق حالیہ اضافے کے پس منظر میں خلیجی ممالک سے آنے والی رقوم کا کردار بھی اہم ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جنگ اور غیر یقینی صورتحال کے دوران بعض پاکستانی سرمایہ کار خلیجی ممالک میں اپنے اثاثے نقد کر رہے ہیں، تاہم مجموعی ترسیلات کے تمام اضافے کو کسی ایک وجہ سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ ترسیلات کے بہاؤ پر روزگار، اجرتوں، شرح مبادلہ اور رسمی بینکاری ذرائع کے استعمال سمیت کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔
ترسیلات زر میں مضبوط اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں اور تجارت سے متعلق خدشات بڑھے ہوئے ہیں۔ پاکستان تیل اور توانائی کی درآمدات پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے، اس لیے زرمبادلہ کی مستحکم آمد بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو محدود کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مالی سال کے ابتدائی مرحلے میں ترسیلات کا حجم گزشتہ برس کے مقابلے میں بہتر رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ تاہم آنے والے مہینوں میں اس رجحان کے برقرار رہنے کا انحصار بیرونی معاشی حالات، خلیجی منڈیوں میں پاکستانی افرادی قوت کی آمدنی اور رسمی چینلز کے ذریعے رقوم بھیجنے کے تسلسل پر ہوگا۔
حکومت اور اسٹیٹ بینک طویل عرصے سے رسمی ذرائع سے ترسیلات کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اقدامات کرتے رہے ہیں۔ اگست کے تازہ اعداد و شمار فوری طور پر ملکی زرمبادلہ کی آمد کے لیے مثبت پیش رفت ہیں، لیکن وسیع تر بیرونی استحکام کا جائزہ برآمدات، درآمدات، قرضوں کی ادائیگیوں اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کے ساتھ ملا کر ہی لیا جائے گا۔




