کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی کارکنوں کی ترسیلات زر 3.656 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 16.5 فیصد زیادہ ہیں۔ جولائی 2026 میں ترسیلات زر 3.630 ارب ڈالر تھیں، اس طرح ماہانہ بنیاد پر بھی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگست 2025 میں پاکستان کو 3.138 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی تھیں۔
رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ، یعنی جولائی اور اگست، میں مجموعی ترسیلات زر تقریباً 7.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ایک سال قبل اسی مدت میں یہ رقم تقریباً 6.4 ارب ڈالر تھی، جس کے مقابلے میں موجودہ مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کی وصولیوں میں 14.7 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتے، زرمبادلہ کی دستیابی اور گھریلو آمدن کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں، اس لیے ان میں مسلسل اضافہ ادائیگیوں کے توازن کے لیے معاون سمجھا جاتا ہے۔
ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اگست میں سعودی عرب سے 873.5 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو بڑے انفرادی ذرائع میں سرفہرست رہا۔ متحدہ عرب امارات سے 749.8 ملین ڈالر، برطانیہ سے 563.7 ملین ڈالر، یورپی یونین کے ممالک سے 495.9 ملین ڈالر اور امریکا سے 308.9 ملین ڈالر کی ترسیلات آئیں۔ خلیجی تعاون کونسل کے دیگر ممالک سے بھی قابل ذکر رقوم موصول ہوئیں۔
وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے ترسیلات کے رجحان کو پاکستان کے بیرونی شعبے کی مضبوطی کے لیے اہم قرار دیا۔ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے ترسیلات زر کا ہدف 44 ارب ڈالر رکھا ہے۔ تاہم ابتدائی دو ماہ کی رفتار کو پورے سال کے حتمی نتیجے کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ترسیلات پر بیرون ملک روزگار، میزبان ممالک کی معاشی صورتحال، شرح مبادلہ، بینکاری ذرائع کی سہولت اور علاقائی حالات سمیت متعدد عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلیجی خطے کی غیر یقینی صورتحال کے باعث بعض پاکستانی سرمایہ کار اپنے اثاثے نقد کر کے رقوم وطن منتقل کر رہے ہیں، لیکن اس رجحان کی مجموعی ترسیلات میں درست مقدار الگ سے سرکاری اعداد و شمار میں متعین نہیں کی گئی۔ اس لیے اگست کے اضافے کا بنیادی قابل تصدیق نکتہ اسٹیٹ بینک کا جاری کردہ مجموعی ڈیٹا ہے، جس سے سالانہ اور دو ماہ کی بنیاد پر نمایاں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔




