کراچی، 10 ستمبر 2026: بزنس ریکارڈر کے تجزیے کے مطابق پاکستان میں کارکنوں کی ترسیلات زر کی رفتار مالی سال 2026-27 میں برقرار رہی اور اگست 2026 کے دوران ترسیلات زر 3.66 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی زرمبادلہ اور گھریلو آمدن کے لیے اہم ذریعہ ہیں۔
ترسیلات زر میں اضافہ عام طور پر بیرونی کھاتوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن مجموعی اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیتے وقت درآمدات، برآمدات، قرض ادائیگیوں اور سرمایہ کاری سمیت دوسرے عوامل بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ صرف ایک ماہ کے اعدادوشمار سے طویل مدتی رجحان کا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ میں ترسیلات کے بڑھتے حجم کو مالی سال کے آغاز میں ایک اہم اشارہ قرار دیا گیا۔ اس کے باوجود ترسیلات پر زیادہ انحصار کے معاشی مضمرات بھی موجود ہیں، کیونکہ پائیدار بیرونی استحکام کے لیے برآمدی صلاحیت اور پیداواری سرمایہ کاری میں بہتری اہم رہتی ہے۔
بیرون ملک روزگار اور رسمی بینکاری ذرائع کے استعمال میں تبدیلی بھی ترسیلات کے حجم کو متاثر کرتی ہے۔ حکومتیں عموماً قانونی ذرائع سے رقوم کی ترسیل کو آسان بنانے کے لیے مختلف پالیسی اقدامات کرتی ہیں تاکہ غیر رسمی چینلز کی حوصلہ شکنی ہو۔
اگست کا 3.66 ارب ڈالر کا اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی رقوم ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ آئندہ مہینوں کے اعدادوشمار سے یہ واضح ہوگا کہ موجودہ رفتار برقرار رہتی ہے یا اس میں تبدیلی آتی ہے۔




