اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت روپے میں نامزد لیکن امریکی ڈالر میں سیٹل ہونے والا بانڈ جاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق اس اقدام کا مقصد حکومتی قرض کے ذرائع کو متنوع بنانا اور ملکی بینکاری نظام پر انحصار کم کرنا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے اس مجوزہ ٹرانزیکشن پر کام کے لیے متعلقہ ادارے پہلے ہی مقرر کر دیے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے یہ بات اسلام آباد میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیر اہتمام نجی سرمایہ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور نجکاری سے متعلق قومی اسٹریٹجک ڈائیلاگ سے خطاب میں کہی۔ یہ منصوبہ پاکستان کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ اجرا کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے ذریعے حکومت نے بین الاقوامی سرمایہ منڈی سے نئی فنانسنگ حاصل کی۔
روپے میں نامزد اور ڈالر میں سیٹل ہونے والے بانڈ کا بنیادی تصور یہ ہے کہ بانڈ کی قدر مقامی کرنسی سے منسلک ہو سکتی ہے جبکہ سرمایہ کار کے ساتھ ادائیگی یا تصفیہ ڈالر میں کیا جائے۔ تاہم مجوزہ بانڈ کی حتمی ساخت، مدت، شرح منافع، اجرا کا حجم، سرمایہ کاروں کا ہدف اور کرنسی کے خطرے کی تقسیم ابھی دستیاب رپورٹ میں حتمی طور پر بیان نہیں کی گئی۔ اس لیے موجودہ مرحلے کو تیاری اور منصوبہ بندی سمجھنا درست ہوگا، نہ کہ مکمل شدہ اجرا۔
حکومت کے لیے قرض کے ذرائع میں تنوع اس لیے اہم ہے کہ زیادہ انحصار چند مخصوص مقامی یا بیرونی ذرائع پر مالیاتی خطرات بڑھا سکتا ہے۔ اگر نئے آلات کے ذریعے مختلف نوعیت کے سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل ہوتی ہے تو حکومت کو فنڈنگ کے مزید راستے مل سکتے ہیں، تاہم ہر نئے بانڈ کے ساتھ لاگت، کرنسی رسک، میچورٹی اور ادائیگی کی ذمہ داریاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔
وزیر خزانہ کے اعلان کے بعد اگلا اہم مرحلہ مجوزہ بانڈ کی تفصیلی شرائط اور اجرا کے وقت کا تعین ہوگا۔ متعلقہ اداروں کی تقرری سے تیاری میں پیش رفت ظاہر ہوتی ہے، لیکن سرمایہ منڈی کے حالات اور سرکاری منظوریوں کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ بانڈ کب، کتنی مالیت میں اور کن شرائط پر جاری کیا جاتا ہے۔ فی الحال حکومت نے اسے قرض کے ذرائع متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا ہے۔




