پاکستان اور سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا گورننس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے ریاض میں LEAP 2026 کانفرنس کے موقع پر سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی کے صدر عبداللہ بن شرف الغامدی سے ملاقات کی۔
ملاقات میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال، سرکاری ڈیٹا کے انتظام، ڈیجیٹل خدمات اور تکنیکی صلاحیت بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اپنی قومی اے آئی پالیسی، ڈیجیٹل گورننس اور ڈیٹا انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل سرمایہ کاری اور مصنوعی ذہانت کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تعاون تربیت، تحقیق، سرکاری اداروں کی صلاحیت اور ممکنہ مشترکہ تکنیکی منصوبوں تک وسیع ہو سکتا ہے۔ تاہم ملاقات میں کسی مخصوص مالی سرمایہ کاری، ڈیٹا شیئرنگ معاہدے یا حتمی مشترکہ منصوبے کی رقم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ڈیٹا گورننس میں پرائیویسی، سکیورٹی، ڈیٹا کی ملکیت اور سرحد پار معلومات کے تبادلے کے واضح قواعد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ الگورتھمک شفافیت، شہری حقوق اور سائبر سکیورٹی جیسے مسائل بھی پالیسی کا حصہ بنتے ہیں۔ اس لیے عملی تعاون متعلقہ قومی قوانین اور ادارہ جاتی ضوابط کے تحت ہوگا۔
پاکستان اور سعودی عرب نے اسی عرصے میں سائبر سکیورٹی تعاون کی مفاہمتی یادداشت بھی کی ہے۔ اے آئی اور ڈیٹا گورننس پر تازہ اتفاق ڈیجیٹل تعلقات کو ایک وسیع فریم ورک دیتا ہے۔ اس تعاون کا حقیقی اثر مستقبل میں تربیتی پروگراموں، مشترکہ تحقیق، سرمایہ کاری اور پاکستان میں قابل پیمائش ڈیجیٹل منصوبوں سے واضح ہوگا۔




