پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور وزیر مملکت بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان نے چھ ماہ سے کم عرصے میں ورچوئل اثاثوں کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا ہے۔ انہوں نے ہانگ کانگ میں Bitcoin Asia کانفرنس سے خطاب میں اس نظام کی تفصیلات بیان کیں۔
ان کے مطابق فریم ورک ڈیجیٹل اثاثہ ایکسچینجز، کسٹڈی، بروکریج اور اثاثہ مینجمنٹ سمیت کاروباری سرگرمیوں کے لیے رسمی ریگولیٹری راستہ فراہم کرتا ہے۔ اس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام، صارف تحفظ اور سائبر سکیورٹی سے متعلق تقاضے شامل کیے گئے ہیں۔
بلال بن ثاقب نے دعویٰ کیا کہ اتھارٹی نے منظور شدہ بجٹ کا صرف آٹھ فیصد استعمال کیا اور 92 فیصد قومی خزانے کو واپس کیا۔ یہ اعداد و شمار اتھارٹی کے سربراہ کے بیان پر مبنی ہیں اور اس کارکردگی کا مکمل آزاد مالی آڈٹ الگ عمل ہوگا۔
حکومت اگلے مرحلے میں ٹوکنائزڈ مارکیٹس، پروگرام ایبل پیمنٹس، اسٹیبل کوائنز اور ایجنٹک پیمنٹس جیسے شعبوں کے لیے قواعد تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کے ساتھ مالی استحکام، صارفین کے اثاثوں کی حفاظت، مارکیٹ میں ہیرا پھیری اور سرحد پار مالی بہاؤ کے خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں۔
ریگولیٹری فریم ورک کا قیام بذات خود ڈیجیٹل اثاثوں کو خطرے سے پاک سرمایہ کاری نہیں بناتا۔ اصل امتحان لائسنسنگ، نگرانی، نفاذ اور غیر قانونی پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی ہوگا۔ اگر قواعد مؤثر اور واضح رہیں تو پاکستان رسمی ڈیجیٹل اثاثہ کاروبار کو ریگولیٹ کرتے ہوئے سرمایہ کاری اور تکنیکی جدت کے لیے قانونی راستہ فراہم کر سکتا ہے۔




