فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپنے آن لائن ٹیکس نظام IRIS کے نئے ورژن 3.0 کو متعارف کرانے کی تیاری تیز کر دی ہے اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے مطابق اس کے ڈیزائن کا مرحلہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں مالی پائیداری سے متعلق اعلیٰ سطحی مکالمے میں ادارے کی گزشتہ ڈھائی سال کی اصلاحات کا جائزہ پیش کیا۔

IRIS ٹیکس گوشواروں، رجسٹریشن اور متعدد آن لائن ٹیکس خدمات کے لیے ایف بی آر کا بنیادی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ نئے ورژن کا مقصد صارف تجربہ، ڈیٹا انضمام اور ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی بہتر کرنا ہو سکتا ہے، تاہم مکمل فیچرز اور لانچ کی حتمی تاریخ الگ سرکاری اعلان سے واضح ہوگی۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ادارے نے نجی شعبے کی مہارت کو شامل کیا اور تھرڈ پارٹی آڈیٹرز استعمال کیے ہیں۔ بیرونی آڈٹ ٹیکس جانچ کی صلاحیت بڑھا سکتا ہے، لیکن ٹیکس دہندگان کے حساس مالی ڈیٹا، مفادات کے ٹکراؤ اور اپیل کے حقوق کے لیے مضبوط قواعد ضروری ہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسی تقریب میں کہا کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.1 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہوا ہے، اگرچہ حکومت تسلیم کرتی ہے کہ مزید بہتری درکار ہے۔ زیادہ محصولات مالی خسارہ اور قرض پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل ٹیکس اصلاحات کی کامیابی صرف نئے سافٹ ویئر سے نہیں بلکہ نظام کی قابل اعتماد کارکردگی، آسان استعمال، درست ڈیٹا اور منصفانہ نفاذ سے ہوگی۔ IRIS 3.0 اگر ٹیکس دہندگان کے لیے پیچیدگی کم اور ایف بی آر کے لیے شفاف آٹومیشن بڑھاتا ہے تو یہ ٹیکس انتظامیہ میں اہم قدم بن سکتا ہے۔