پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں پولیس کی وردی پہن کر مختلف جرائم کرنے اور خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرنے والے ایک مشتبہ شخص کو مصنوعی ذہانت پر مبنی چہرہ شناخت کے نظام اور اسمارٹ نگرانی کیمروں کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق گارڈن ٹاؤن کے علاقے میں موٹر سائیکل چوری کی اطلاع ملنے کے بعد ورچوئل پیٹرولنگ افسر نے مشتبہ شخص کی نگرانی شروع کی۔ سیف سٹی کے کیمروں اور فیشل ریکگنیشن سسٹم کے ذریعے شناخت اور نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا اور متعلقہ پولیس کو ڈیجیٹل شواہد فراہم کیے گئے۔
سیف سٹیز ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کے تجزیے سے مشتبہ شخص کی مبینہ طور پر دیگر جرائم میں شمولیت بھی سامنے آئی۔ پولیس وردی کا استعمال شہریوں کو دھوکا دینے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے ایسے الزامات سنگین نوعیت رکھتے ہیں۔
گرفتاری اور سیف سٹی کے دعوے کسی عدالتی سزا کے برابر نہیں۔ مشتبہ شخص کے خلاف ہر الزام کو پولیس تفتیش اور عدالت میں قابل قبول شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا، اور ملزم کو قانونی دفاع کا حق حاصل ہے۔
اے آئی فیشل ریکگنیشن جرائم کی تفتیش میں رفتار بڑھا سکتی ہے، لیکن غلط شناخت، شہری پرائیویسی اور ڈیٹا کے استعمال کے واضح قانونی قواعد بھی ضروری ہیں۔ ٹیکنالوجی کا ذمہ دار استعمال انسانی تصدیق، آڈٹ اور شکایت کے نظام کے ساتھ ہونا چاہیے۔ لاہور کا یہ واقعہ سیف سٹی نگرانی کے بڑھتے استعمال کی مثال ہے اور ساتھ ہی ڈیجیٹل پولیسنگ کی جوابدہی کی اہمیت بھی نمایاں کرتا ہے۔




