اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر جاری کی گئی سمز، چوری شدہ فنگر پرنٹس اور کرائے پر لیے گئے بینک اکاؤنٹس آن لائن مالی فراڈ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ ڈھائی برس میں 18 اعشاریہ 2 ملین غیر قانونی سمز بند کرنے اور ٹیلی کام کمپنیوں پر جرمانے عائد کرنے کے باوجود جعل ساز نظام کی موجود خامیوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
کمیٹی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی راجا خرم شہزاد نواز کی صدارت میں ہوا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، ارکان پارلیمان، وزارت داخلہ و قانون، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، وفاقی تحقیقاتی ادارے، اسٹیٹ بینک، بینکاری شعبے اور موبائل آپریٹرز کے نمائندے شریک ہوئے۔ اجلاس میں جعلی بینک پیغامات، دھوکے پر مبنی فون کالز، غیر مجاز رقوم نکلوانے اور نام نہاد ’میول‘ اکاؤنٹس کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔
این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر عرفان اللہ خان نے ایک حالیہ کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملتان میں 195 فعال سمز اور 81 اے ٹی ایم کارڈز قبضے میں لیے گئے جو مبینہ طور پر فراڈ کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ یہ اشیا کسی عدالتی فیصلے کے بجائے تفتیشی کارروائی میں برآمد ہوئی ہیں، اس لیے متعلقہ افراد کے حتمی قانونی کردار کا تعین تحقیقات اور عدالتی عمل کے بعد ہوگا۔
پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمن نے کمیٹی کے سامنے تسلیم کیا کہ سم کے اجرا کے لیے بنایا گیا بائیومیٹرک نظام بعض مقامات پر بائی پاس کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جعل ساز ہوائی اڈوں، ڈرائیونگ لائسنس مراکز اور پاسپورٹ دفاتر سے فنگر پرنٹ ڈیٹا حاصل کر رہے ہیں، جبکہ نادرا سے ممکنہ اخراج کے بارے میں بھی خدشہ ظاہر کیا گیا۔ نادرا کے کسی ڈیٹا اخراج کی اس اجلاس میں حتمی تصدیق نہیں کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے نے مشترکہ کارروائیوں میں 110 مراکز پر چھاپے مارے، 29 ہزار غیر قانونی سمز بند کیں اور 171 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ بریفنگ کے مطابق تقریباً چھ لاکھ افراد سے متعلق ڈیٹا بھی برآمد ہوا۔ گرفتاری اور برآمدگی کو جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا اور مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتوں میں ہوگا۔
طلال چوہدری نے موجودہ فنگر پرنٹ تصدیق کو ناکافی قرار دیتے ہوئے چہرے اور آنکھ کی پتلی کی شناخت جیسے طریقوں پر جانے کی تجویز دی۔ انہوں نے ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا کہ وہ پی ٹی اے کے ساتھ مل کر حفاظتی نظام بہتر کریں۔ اجلاس میں یہ مسئلہ بھی سامنے آیا کہ بعض لوگ اپنے بینک اکاؤنٹس معاوضے کے عوض دوسروں کو استعمال کرنے دیتے ہیں، جن کے ذریعے فراڈ سے حاصل رقم منتقل یا چھپائی جاتی ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین نے سیکریٹری داخلہ احمد رضا سرور کو اسٹیٹ بینک، پی ٹی اے، این سی سی آئی اے، بینکوں اور ٹیلی کام آپریٹرز کا فوری مشترکہ اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔ شرکا سے قانونی، ضابطہ جاتی اور تکنیکی اقدامات پر مشتمل منصوبہ تیار کرنے کو کہا گیا ہے۔ ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ کسی شہری کے شناختی کارڈ پر ایک سے زیادہ سم جاری ہونے کی صورت میں اسے خودکار ایس ایم ایس اطلاع ملنی چاہیے۔
پی ٹی اے کی جانب سے سم کے اجرا کو نادرا کے پاک آئی ڈی نظام سے منسلک کرنے جبکہ اسٹیٹ بینک کے ایک نمائندے کی جانب سے ہر سم کو ایک ہی آئی ایم ای آئی نمبر تک محدود کرنے کی تجویز دی گئی۔ یہ تجاویز ابھی منظور شدہ ضابطے نہیں ہیں۔ ان پر تکنیکی امکان، صارفین کی رازداری، قانونی اختیار اور نفاذ کے اخراجات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ متوقع ہوگا۔




