پنجاب حکومت نے سرکاری خدمات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو وسیع کرنے کے لیے چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کلاؤڈ کے ساتھ ممکنہ اسٹریٹجک شراکت داری پر بات چیت کی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے چین میں کمپنی کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات میں اے آئی پر مبنی گورننس منصوبوں اور سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا۔

ملاقات میں زراعت، صحت، سماجی و معاشی پروگراموں اور موسمیاتی پیش گوئی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو خاص طور پر زیر بحث لایا گیا۔ زرعی شعبے میں اے آئی فصل، موسم اور پانی سے متعلق ڈیٹا کے تجزیے جبکہ صحت میں وسائل کی منصوبہ بندی اور بیماریوں کے رجحانات کی نگرانی میں مدد دے سکتی ہے۔

علی بابا کلاؤڈ کے وفد نے پنجاب کے اے آئی پر مبنی حکومتی اقدامات میں دلچسپی ظاہر کی اور صوبے کے آئی ٹی شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بات کی۔ تاہم ملاقات میں کسی حتمی سرمایہ کاری رقم، معاہدے یا منصوبے کی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا۔

سرکاری خدمات میں اے آئی اپنانے کے ساتھ شہری ڈیٹا کی پرائیویسی، سائبر سکیورٹی، الگورتھمک شفافیت اور غلط فیصلوں کے خلاف انسانی نگرانی اہم مسائل ہیں۔ کسی بھی بڑے کلاؤڈ یا اے آئی شراکت دار کے ساتھ معاہدے میں ڈیٹا کی میزبانی اور ملکیت کے قواعد بھی واضح ہونا ضروری ہوں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت گورننس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کو فروغ دے رہی ہے۔ علی بابا کلاؤڈ کے ساتھ گفتگو اس حکمت عملی کو بین الاقوامی تکنیکی شراکت داری سے جوڑتی ہے۔ اصل نتیجہ تب سامنے آئے گا جب پائلٹ منصوبے، قانونی تحفظات اور قابل پیمائش عوامی خدمات عملی طور پر نافذ ہوں گے۔