اسلام آباد/ریاض: سعودی عرب اور یمن کی ایران سے منسلک حوثی تحریک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ سفارتی اور دفاعی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ رائٹرز کی 11 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ نئے باہمی دفاعی انتظام کا حصہ ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پیغام رسانی اور ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک روز قبل واضح کیا تھا کہ حالیہ حوثی حملوں کے تناظر میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی فوری فوجی ردعمل پر بات نہیں ہوئی۔ ترجمان سجاد حیدر خان کے مطابق پاکستان معاہدے سے اپنی وابستگی برقرار رکھتا ہے، لیکن موجودہ مرحلے پر کسی مخصوص فوجی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس وضاحت سے دفاعی ذمہ داری اور فوری عملی مداخلت کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔

رائٹرز نے ذرائع اور علاقائی سفارتی رابطوں کی بنیاد پر رپورٹ کیا کہ پاکستان نے ایران تک ایسے پیغامات پہنچائے جن میں حوثیوں کو روکنے کے لیے اثرورسوخ استعمال کرنے پر زور دیا گیا۔ تہران نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عوامی سطح پر تسلیم کیا ہے، تاہم رپورٹ میں بعض ذرائع نے اسلام آباد کی ثالثی کی گنجائش اور اثر کے بارے میں سوالات بھی اٹھائے۔ یہ آرا سفارتی جائزے ہیں، کسی باضابطہ نتیجے یا کامیاب ثالثی کی تصدیق نہیں۔

صورتحال پاکستان کے لیے اس لیے بھی حساس ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے دفاعی، معاشی اور افرادی تعلقات گہرے ہیں، جبکہ ایران اس کا ہمسایہ ہے اور سرحدی و توانائی سلامتی کے معاملات میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ خطے میں جاری تنازع نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستوں کو بھی متاثر کیا ہے، جس سے تیل، ایل این جی اور بحری تجارت کے خطرات بڑھے ہیں۔ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کے باعث ان راستوں میں رکاوٹ سے براہ راست معاشی دباؤ محسوس کر سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق پاکستان نے سعودی سرحدی علاقے کے قریب فوجی موجودگی بھی بڑھائی ہے، جس سے کسی مزید علاقائی پھیلاؤ کی صورت میں اس کی حساسیت بڑھ جاتی ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کی تازہ عوامی پوزیشن یہی ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت فوری فوجی جواب زیر بحث نہیں آیا۔ اس لیے موجودہ مرحلے کو پاکستان کی جانب سے جنگ میں شمولیت کے بجائے دفاعی تیاری، اتحادی ذمہ داریوں اور سفارتی رابطوں کے بیک وقت انتظام کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔ آئندہ صورت حال کا انحصار حوثی حملوں، سعودی ردعمل، ایران کے کردار اور علاقائی سفارت کاری کے نتائج پر ہوگا۔