واشنگٹن: امریکی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں حزب اللہ اور ایران سے منسلک گروہوں کی مالی یا عملی معاونت کے الزام میں متعدد افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) کے مطابق تازہ اقدامات ان نیٹ ورکس کو ہدف بناتے ہیں جن پر کتائب حزب اللہ اور حزب اللہ کی معاونت کا الزام ہے۔
امریکی حکام کتائب حزب اللہ کو عراق میں سرگرم ایک ایران نواز مسلح گروہ قرار دیتے ہیں اور اسے ایران کے پاسداران انقلاب سے منسلک سمجھتے ہیں۔ حزب اللہ لبنان میں سیاسی اور مسلح تنظیم کے طور پر سرگرم ہے۔ امریکی پابندیوں کے تحت نامزد افراد یا اداروں کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد ہو سکتے ہیں اور امریکی شہریوں یا کمپنیوں کے ساتھ ان کے مالی لین دین پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔
یہ اقدامات امریکا کی اس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایران اور اس سے منسلک علاقائی گروہوں کے مالی ذرائع محدود کرنا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران واشنگٹن نے اقتصادی دباؤ، مالی پابندیوں اور فوجی اقدامات کو اپنی ایران پالیسی کے مختلف ذرائع کے طور پر استعمال کیا ہے۔
پابندیوں کے اعلان میں امریکی حکومت نے متعلقہ افراد اور کمپنیوں پر معاونت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان الزامات کو امریکی انتظامیہ کا سرکاری مؤقف سمجھا جانا چاہیے؛ ہر نامزد فریق کے خلاف کسی بین الاقوامی عدالت میں جرم ثابت ہونا لازمی نہیں۔ پابندی ایک انتظامی و مالی اقدام ہے جس کے قانونی اثرات امریکی دائرہ اختیار اور متعلقہ پابندی نظام کے تحت مرتب ہوتے ہیں۔
ایسی پابندیوں کا عملی اثر بین الاقوامی بینکوں اور کمپنیوں تک بھی پہنچ سکتا ہے کیونکہ وہ امریکی مالیاتی نظام تک رسائی کے خطرے کے باعث نامزد اداروں سے لین دین محدود کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے OFAC کی فہرستوں میں نئی نامزدگیاں علاقائی تجارت اور مالی روابط پر وسیع اثر ڈال سکتی ہیں۔
تازہ اعلان ایسے وقت آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بلند سطح پر ہے اور مشرق وسطیٰ میں ایران سے منسلک گروہوں کی سرگرمیاں امریکی پالیسی کا اہم محور بنی ہوئی ہیں۔ آئندہ اقدامات کا انحصار علاقائی صورتحال اور امریکی محکمہ خزانہ و دیگر اداروں کی مزید نامزدگیوں پر ہوگا۔




