واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے H-1B سمیت متعدد عارضی ورک ویزوں کے حامل افراد کے لیے ملازمت ختم ہونے کے بعد دستیاب 60 روزہ رعایتی مدت ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی مجوزہ تبدیلی ابھی حتمی قانون نہیں اور اسے نافذ کرنے سے پہلے عوامی تبصروں کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔

موجودہ ضابطے کے تحت بعض عارضی ورک ویزا رکھنے والے افراد ملازمت ختم ہونے کے بعد محدود مدت تک امریکا میں قانونی طور پر رہ سکتے ہیں تاکہ نئی ملازمت، ویزا حیثیت میں تبدیلی یا ملک سے روانگی کے انتظامات کر سکیں۔ مجوزہ اقدام اس 60 روزہ سہولت کو ختم کر دے گا، جس سے ملازمت ختم ہونے کے بعد متاثرہ کارکنوں کے پاس متبادل انتظام کے لیے بہت کم وقت رہ سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق تجویز H-1B کے علاوہ E-1، E-2، L-1، O-1، TN، H-1B1 اور E-3 جیسے زمروں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ H-1B پروگرام خاص طور پر ٹیکنالوجی اور دیگر اعلیٰ مہارت والے شعبوں میں غیر ملکی پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے کسی بڑی ضابطہ جاتی تبدیلی کے اثرات کارکنوں کے ساتھ ساتھ ان کمپنیوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں جو ایسے ماہرین پر انحصار کرتی ہیں۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے مجوزہ ضابطے کے ممکنہ انتظامی اور معاشی اثرات کو بھی تسلیم کیا ہے۔ امیگریشن ماہرین اور بعض کاروباری حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اچانک ملازمت ختم ہونے کی صورت میں غیر ملکی کارکنوں، ان کے خاندانوں اور کمپنیوں کے لیے منتقلی کا عمل مشکل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب انتظامیہ قانونی امیگریشن کے ضوابط سخت کرنے اور امریکی لیبر مارکیٹ میں مقامی کارکنوں کے مواقع بڑھانے کی پالیسی پر زور دیتی رہی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ اقدام اس وقت ایک تجویز ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ عوامی تبصروں اور ضابطہ سازی کے قانونی عمل کے بعد اس میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے یا اس کے نفاذ کی تاریخ الگ مقرر کی جا سکتی ہے۔ اس لیے موجودہ H-1B یا دیگر متعلقہ ویزا رکھنے والوں کی قانونی حیثیت فوری طور پر تبدیل نہیں ہوئی۔

یہ تجویز ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع تر امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے، جس میں ویزا فیس، جانچ پڑتال اور مختلف امیگریشن راستوں کے قواعد سخت کرنے کے اقدامات شامل رہے ہیں۔ حتمی ضابطہ جاری ہونے کی صورت میں امریکی ٹیکنالوجی شعبے اور عالمی ہنرمند افرادی قوت پر اس کے عملی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔