واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی کے حصے کے طور پر 96 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق 50 سے زائد ایسے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی جو انسانی امداد کی ترسیل سے متعلق تھے۔

یہ اعداد امریکی فوجی کمانڈ کے بیان پر مبنی ہیں۔ دستیاب اطلاع میں ہر جہاز کی شناخت، پرچم، منزل یا روکے جانے کے مقام کی مکمل فہرست فراہم نہیں کی گئی، اس لیے انفرادی جہازوں سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق اس مرحلے پر ممکن نہیں۔

بحری ناکہ بندی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مسلح کشیدگی کا حصہ ہے اور اس کے عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل پر اثرات کے بارے میں خدشات موجود ہیں۔ خلیج اور آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت میں کمی یا رخ کی تبدیلی عالمی رسد اور انشورنس لاگت پر اثر ڈال سکتی ہے۔

سینٹ کام کا انسانی امداد کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کا بیان اس پہلو کو نمایاں کرتا ہے کہ امریکی کارروائی میں بعض استثنا رکھے گئے ہیں۔ تاہم انسانی امداد کی تعریف، معائنہ کے طریق کار اور اجازت کے معیار سے متعلق مکمل تفصیلات اس مختصر اعلان میں سامنے نہیں آئیں۔

بین الاقوامی قانون میں بحری ناکہ بندی کے قانونی جواز، دائرہ اور نفاذ کے قواعد پیچیدہ ہیں اور ان کا انحصار مسلح تنازع کی نوعیت اور عملی حالات پر ہوتا ہے۔ مختلف فریق ایسے اقدامات کی قانونی حیثیت پر مختلف مؤقف اختیار کر سکتے ہیں، اس لیے کسی قانونی نتیجے کو خودکار طور پر اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

تازہ امریکی اعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحری کارروائی نے تجارتی جہاز رانی پر قابل ذکر عملی اثر ڈالا ہے۔ آئندہ دنوں میں جہازوں کی آمدورفت، توانائی کی قیمتوں اور علاقائی فوجی کشیدگی کے اعداد اس ناکہ بندی کے وسیع معاشی اور انسانی اثرات کا بہتر اندازہ فراہم کریں گے۔