لندن: برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس نے ایک مرد اور ایک خاتون کو ایران کی انٹیلی جنس سروس کی معاونت کے شبہے میں گرفتار کیا ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق 60 سالہ مرد اور 42 سالہ خاتون کو شمال مغربی اور شمالی لندن میں الگ الگ مقامات سے حراست میں لیا گیا۔ گرفتاریاں نیشنل سکیورٹی ایکٹ 2023 کی دفعہ 3 کے تحت کی گئیں، جو کسی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کی معاونت سے متعلق جرائم کا احاطہ کرتی ہے۔

پولیس نے واضح کیا ہے کہ دونوں افراد کے خلاف شبہات کی تفتیش جاری ہے اور گرفتاری کسی جرم کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق دونوں کو پوچھ گچھ کے بعد اکتوبر کی ایک تاریخ تک مشروط ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ حکام نے ان افراد کی شناخت یا ان پر عائد مخصوص عملی الزامات کی تفصیل عام نہیں کی۔

انسداد دہشت گردی پولیس نے بتایا کہ اس تحقیقات کے سلسلے میں شمالی اور شمال مغربی لندن میں جائیدادوں کی تلاشی بھی لی گئی۔ بعض تلاشیاں گرفتاریوں سے تقریباً تین ماہ پہلے کی گئی تھیں، جبکہ ایک اضافی مقام کی تلاشی گرفتاریوں کے بعد ہوئی۔ تفتیش کار ممکنہ شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں اور کیس کی نوعیت کے باعث تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں۔

کاؤنٹر ٹیررازم پولیس لندن کی کمانڈر ہیلن فلینیگن نے کہا کہ دستیاب معلومات میں عام شہریوں کے لیے کسی فوری خطرے کے آثار نہیں۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ یہ تحقیقات لندن میں ایرانی یا یہودی برادریوں سے متعلق حالیہ واقعات یا یہودی مذہبی ایام کے دوران سکیورٹی خدشات سے منسلک نہیں ہیں۔

برطانوی حکام گزشتہ چند برسوں سے ریاستی خطرات، غیر ملکی مداخلت اور ممکنہ جاسوسی سرگرمیوں کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت کارروائیاں بڑھا رہے ہیں۔ تاہم ہر مقدمے میں قانونی معیار کے مطابق شواہد کی جانچ اور استغاثہ کا الگ فیصلہ ضروری ہوتا ہے۔

اس معاملے میں فی الحال کوئی فرد مجرم قرار نہیں دیا گیا۔ پولیس کی تفتیش مکمل ہونے اور ممکنہ طور پر کراؤن پراسیکیوشن سروس کے جائزے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ آیا باضابطہ الزامات عائد کیے جاتے ہیں یا نہیں۔