اسلام آباد: سعودی پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح سعودی کاروباری وفد نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، ایس آئی ایف سی، نے وفد کی پاکستانی حکام اور اہم کاروباری نمائندوں کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے رابطہ کاری اور سہولت فراہم کی۔
رپورٹ کے مطابق بات چیت میں توانائی، پیٹرولیم، نجکاری، صنعت، مواصلات اور شاہراہوں سمیت ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع زیرِ غور آئے۔ وفد نے سرکاری اور نجی شعبے کے نمائندوں کے ساتھ حکومت سے حکومت، یعنی جی ٹو جی، اور کاروبار سے کاروبار، یعنی بی ٹو بی، تعاون کے تحت ممکنہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ پیش رفت سرمایہ کاری امکانات اور رابطہ کاری کے مرحلے سے متعلق ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی مخصوص منصوبے کے معاہدے پر دستخط، سرمایہ کاری کی حتمی رقم، فنانسنگ کی شرائط، ملکیتی ڈھانچے یا عمل درآمد کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اسی لیے ملاقاتوں کو حتمی سرمایہ کاری یا طے شدہ منصوبوں کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔
ایس آئی ایف سی نے کہا ہے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو عملی سرمایہ کاری، کاروباری شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں کی طرف بڑھانا ہے۔ ادارے نے سعودی سرمایہ کاروں کے لیے مسلسل سہولت کاری اور دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس بیان کی عملی پیش رفت کا اندازہ بعد میں سامنے آنے والے باضابطہ معاہدوں، مالیاتی بندوبست اور منصوبہ وار ٹائم لائن سے ہوگا۔
مختلف شعبوں کا ایک ہی دورے میں زیرِ بحث آنا پاکستان کی جانب سے وسیع سرمایہ کاری ترجیحات پیش کرنے کی علامت ہے، تاہم ہر شعبے میں قانونی، مالی، تکنیکی اور تجارتی جانچ الگ ہوگی۔ نجکاری کے کسی موقع کے لیے متعلقہ بولی اور ریگولیٹری عمل، جبکہ توانائی، پیٹرولیم یا شاہراہ کے منصوبے کے لیے سرمایہ، محصولات اور عمل درآمد کے الگ انتظامات درکار ہوں گے۔ رپورٹ ان تفصیلات کے طے ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی۔
موجودہ قابلِ تصدیق نتیجہ یہ ہے کہ سعودی کاروباری وفد نے پاکستان میں متعلقہ سرکاری و نجی نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، چھ بڑے شعبوں میں مواقع پر بات ہوئی اور ایس آئی ایف سی نے آئندہ سہولت کاری جاری رکھنے کا بیان دیا۔ کسی حتمی سرمایہ کاری معاہدے، رقم یا منصوبہ شروع ہونے کی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




