عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق کاروباری دن کے اختتام پر برینٹ خام تیل 86.28 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، یعنی ڈبلیو ٹی آئی، 80.29 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ یہ اعداد عالمی خام تیل کے سودوں سے متعلق ہیں، پاکستان میں پٹرول یا ڈیزل کی سرکاری خوردہ قیمتوں کا اعلان نہیں۔
رپورٹ میں قیمتوں میں کمی کو ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعے عارضی بحری راستہ قائم کرنے کے ممکنہ فریم ورک پر بات چیت سے جوڑا گیا ہے۔ اس سفارتی پیش رفت کے بعد بازار میں تیل کی عالمی رسد کے بارے میں خدشات کسی حد تک کم ہوئے اور سرمایہ کاروں کو امید ملی کہ کشیدگی کے باوجود توانائی کی ترسیل کے لیے محدود عملی راستہ نکل سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات گزرتی ہیں۔ اس راستے میں رکاوٹ یا عدم تحفظ کا خدشہ عموماً تیل کے نرخوں میں خطرے کا اضافی پریمیم پیدا کرتا ہے، جبکہ محفوظ آمدورفت کی توقع قیمتوں پر دباؤ کم کرسکتی ہے۔ موجودہ کمی بھی ایسی توقعات کے پس منظر میں رپورٹ ہوئی ہے۔
تاہم ایران اور عمان کی بات چیت کو مکمل اور معمول کی جہاز رانی کی بحالی کا حتمی معاہدہ نہیں کہا گیا۔ رپورٹ کے مطابق محفوظ اور باقاعدہ آمدورفت بحال کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ علاقائی سکیورٹی، سیاسی کشیدگی اور عملی انتظامات کسی عارضی بندوبست پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے ایک دن کی اختتامی قیمت آئندہ دنوں کے مستقل رجحان کی ضمانت نہیں۔
رپورٹ میں کسی باقاعدہ مشترکہ معاہدے کا مکمل متن، بحری راستے کے آغاز کی تاریخ، روزانہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد یا تیل کی دستیاب مقدار کے نئے اعداد شامل نہیں۔ ان تفصیلات کے بغیر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ رسد کا خطرہ مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔
آنے والے دنوں میں خام تیل کی سمت کا انحصار آبنائے ہرمز میں عملی جہاز رانی، خطے کی سکیورٹی، ایران اور دیگر فریقوں کے درمیان سفارتی پیش رفت اور عالمی طلب و رسد پر ہوگا۔ پاکستان میں صارفین کے لیے پٹرولیم قیمتیں الگ سرکاری نوٹیفکیشن اور مقامی ٹیکس و شرحِ مبادلہ کے عوامل کے تحت مقرر ہوتی ہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




