پاکستان نے خیبر پختونخوا کے آثارِ قدیمہ رانی گٹ اور سندھ کی قدیم بندرگاہ بھنبھور کو یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل کرانے کی کوشش آگے بڑھانے کے لیے عالمی ادارے سے معاونت طلب کی ہے۔ یہ درخواست وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی اور پاکستان میں یونیسکو کے نمائندے فواد پاشایف کی اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کی گئی۔ سرکاری بیان کے مطابق دونوں مقامات اس وقت پاکستان کی عارضی فہرست کا حصہ ہیں؛ انہیں مستقل عالمی ورثہ فہرست میں شامل کیا جانا ابھی منظور شدہ نتیجہ نہیں۔
یونیسکو کے عالمی ورثہ عمل میں عارضی فہرست ابتدائی قومی فہرست ہوتی ہے جس سے کوئی ملک مستقبل میں نامزدگی پیش کرسکتا ہے۔ اس کے بعد مکمل نامزدگی دستاویز، مقام کی غیر معمولی عالمی قدر، تحفظ و انتظام کا منصوبہ، حدود، قانونی حفاظت اور ماہر اداروں کی جانچ سمیت کئی مراحل آتے ہیں۔ حتمی فیصلہ عالمی ورثہ کمیٹی کرتی ہے۔ اس لیے وزارت کی موجودہ درخواست کو تکنیکی تیاری اور نامزدگی آگے بڑھانے کی کوشش سمجھا جائے گا، نہ کہ دونوں مقامات کی فہرست میں شمولیت۔
ملاقات میں بتایا گیا کہ یونیسکو کے عالمی ورثہ مرکز کی ویب معلومات کے مطابق پاکستان کی عارضی فہرست میں 37 املاک شامل ہیں، جن میں رانی گٹ کا آثارِ قدیمہ مقام اور بھنبھور کی بندرگاہ شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ متعدد پاکستانی تاریخی و ثقافتی مقامات کو تحفظ، دستاویز بندی اور بین الاقوامی تکنیکی تعاون کی ضرورت ہے۔ یونیسکو نمائندے نے ممکنہ معاونت اور پاکستان کے ساتھ ورثہ تحفظ پر کام جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی، لیکن کسی مخصوص مالی گرانٹ یا نامزدگی منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔
اعلامیے کے مطابق عالمی ورثہ کمیٹی سے متعلق ایک دورہ 6 سے 11 ستمبر 2026 کے دوران بھنبھور متوقع تھا اور وزارت کے سیکریٹری کو بھی وفد میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ متوقع دورہ نامزدگی عمل میں معلومات یا تکنیکی رابطے کا حصہ ہوسکتا ہے، مگر اسے خود بخود باقاعدہ جائزہ مشن یا فہرست میں شمولیت کی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا۔ دورے کی حتمی نوعیت اور نتائج متعلقہ اداروں کی بعد کی دستاویزات سے واضح ہوں گے۔
وزارت نے چار منتخب پاکستانی کھانوں اور پکوان روایات کو یونیسکو کے غیر مادی ثقافتی ورثہ نظام میں شامل کرانے کے لیے بھی مدد مانگی۔ یونیسکو نمائندے نے وزارت سے مجوزہ روایات کی فہرست طلب کی تاکہ ان کا جائزہ لیا جاسکے۔ سرکاری بیان میں چاروں کھانوں کے نام نہیں بتائے گئے، اس لیے کسی خاص خوراک کو نامزد شدہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ غیر مادی ورثہ کا طریقہ تاریخی عمارات کی عالمی ورثہ فہرست سے الگ ہے اور اس میں برادریوں کی رضامندی، روایت کی دستاویز بندی اور تحفظ کے منصوبے اہم ہوتے ہیں۔
ملاقات میں دریائے سندھ کی تہذیب کو موجودہ ایران، شام اور میسوپوٹیمیا کے علاقوں سے جوڑنے والے قدیم تجارتی و ثقافتی راستے پر مزید تحقیق، رباب اور ستار جیسی مشترکہ یا کثیر ملکی نامزدگیوں، ماہرین کی تربیتی ورکشاپس اور تاریخی مقامات کی تشہیر پر بھی گفتگو ہوئی۔ یہ نکات تحقیقی اور تعاون کی تجاویز ہیں؛ کسی نئی مشترکہ نامزدگی کی باقاعدہ منظوری سامنے نہیں آئی۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت 2 ستمبر 2026 کی ملاقات، رانی گٹ اور بھنبھور کے لیے یونیسکو معاونت کی سرکاری درخواست، بھنبھور کے متوقع دورے اور پکوان روایات کی فہرست فراہم کرنے پر اتفاق ہے۔ دونوں آثار کی مستقل عالمی ورثہ حیثیت کے لیے مکمل نامزدگی، ماہر جانچ اور عالمی ورثہ کمیٹی کا الگ فیصلہ ضروری ہوگا۔




