اسلام آباد: پاکستان میں ضروری اشیا کی قیمتوں کی ہفتہ وار پیمائش کرنے والے حساس قیمت اشاریے کے مطابق قلیل مدتی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 12.31 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق 5 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں مجموعی ایس پی آئی میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.04 فیصد کمی آئی، تاہم ایک سال پہلے کے مقابلے میں قیمتوں کی سطح نمایاں طور پر بلند رہی۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف غذائی اور توانائی اشیا کی قیمتوں میں الگ الگ سمتوں میں تبدیلی ہوئی۔ بعض سبزیوں اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں ہفتہ وار کمی نے مجموعی اشاریے کو معمولی نیچے لانے میں کردار ادا کیا، جبکہ کئی بنیادی اشیا اب بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں مہنگی ہیں۔ ایل پی جی سمیت توانائی سے متعلق اخراجات میں تبدیلی بھی گھرانوں کے بجٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
حساس قیمت اشاریہ ملک کے مختلف شہروں میں منتخب بنیادی اشیا کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد عام صارفین، خصوصاً کم اور متوسط آمدنی والے گھرانوں کو درپیش فوری قیمت دباؤ کی تصویر پیش کرنا ہے۔ ہفتہ وار اشاریے میں معمولی کمی اس بات کی ضمانت نہیں کہ مجموعی مہنگائی کا دباؤ ختم ہو گیا ہے، کیونکہ سالانہ شرح اب بھی دو ہندسوں میں ہے۔
خوراک کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان میں مہنگائی کے رجحان کا اہم حصہ ہے۔ ٹماٹر، آلو اور دیگر تازہ غذائی اجناس کی قیمتیں رسد، موسم اور منڈی تک ترسیل کے حالات کے باعث تیزی سے بدل سکتی ہیں۔ اسی طرح ایندھن اور ایل پی جی کے نرخ نقل و حمل اور گھریلو توانائی کے اخراجات کے ذریعے صارفین کے مجموعی خرچ کو متاثر کرتے ہیں۔
تازہ اعداد و شمار ایسے وقت جاری ہوئے ہیں جب پالیسی ساز معاشی استحکام، قیمتوں کے دباؤ اور عوام کی قوت خرید کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہفتہ وار سطح پر معمولی کمی ایک محدود مثبت اشارہ ہے، لیکن 12.31 فیصد کی سالانہ شرح بتاتی ہے کہ ضروری اشیا کی قیمتیں گزشتہ سال کی سطح کے مقابلے میں بدستور کافی زیادہ ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں غذائی رسد، توانائی کی قیمتیں اور روپے کی قدر مہنگائی کے مختصر مدتی رجحان کے اہم عوامل رہیں گے۔
