اسلام آباد: وفاقی حکومت کے سرکاری ملکیتی اداروں کی مالی کارکردگی کے ششماہی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ، یعنی جولائی سے دسمبر 2025، کے دوران خسارے میں چلنے والے وفاقی SOEs نے مجموعی طور پر 342.8 ارب روپے کا نقصان کیا۔ اسی مدت میں حکومت کی جانب سے سرکاری اداروں کو مجموعی طور پر 804 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی۔

یہ اعداد و شمار وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کے اجلاس میں پیش کیے گئے۔ مرکزی مانیٹرنگ یونٹ نے وفاقی SOEs کی مالی اور عملی کارکردگی، منافع و خسارہ، حکومتی مالی بہاؤ، منظور شدہ کاروباری منصوبوں پر عمل درآمد، کارپوریٹ گورننس اور مالی رپورٹنگ سمیت مختلف اشاریوں کا جائزہ کمیٹی کے سامنے رکھا۔

جائزے کے مطابق منافع کمانے والے سرکاری اداروں نے جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران مجموعی طور پر 423.3 ارب روپے منافع کمایا۔ دوسری طرف حکومت کو سرکاری اداروں کی جانب سے 839 ارب روپے کی رقوم موصول ہوئیں۔ حکومت کی 804 ارب روپے کی معاونت کو مدنظر رکھنے پر اس مدت میں مجموعی خالص مالی بہاؤ 35 ارب روپے حکومت کے حق میں رہا۔ یہ مجموعی اعداد ہیں اور ان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ہر سرکاری ادارے کی مالی حالت یکساں تھی۔

کمیٹی نے خاص طور پر گردشی قرضے، بعض بجلی اور بنیادی ڈھانچے کے اداروں کی عملی کمزوریاں، کارپوریٹ گورننس کے خلا اور بورڈز کی کارکردگی کو ایسے شعبے قرار دیا جن پر مسلسل توجہ درکار ہے۔ اجلاس میں منظور شدہ کاروباری منصوبوں پر عمل، قابل پیمائش کارکردگی اہداف، مالی نظم و ضبط اور کمزور اداروں میں بروقت اصلاحی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں مرکزی مانیٹرنگ یونٹ کے مربوط ڈیجیٹل رپورٹنگ اور تجزیاتی پلیٹ فارم کا مظاہرہ بھی کیا گیا، جس کا مقصد مختلف SOEs کے اعداد و شمار کو ایک جگہ جمع کرکے یکساں رپورٹنگ، ڈیش بورڈز اور مالی و عملی تجزیے کو بہتر بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ زیادہ شفافیت کے ساتھ اداروں کی تجارتی کارکردگی اور جواب دہی میں بھی بہتری لانا ضروری ہے تاکہ طویل مدت میں عوامی مالی وسائل پر انحصار کم کیا جا سکے۔

کمیٹی نے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کی خالی آسامیوں سے متعلق سمری، انڈیجنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی کے بورڈ چیئرمین کی تقرری اور پاکستان اسٹیٹ آئل کے بورڈ آف مینجمنٹ کے لیے نامزدگیوں سمیت متعدد گورننس امور کی بھی منظوری دی۔ SOE پالیسی 2023 میں مالی رپورٹنگ معیارات کی نگرانی سے متعلق ایک ترمیم بھی منظور کی گئی، جس کے تحت متعلقہ ریگولیٹرز کے مقرر کردہ مالی رپورٹنگ فریم ورک کو واضح کیا گیا ہے۔

سرکاری اداروں کی مجموعی مالی کارکردگی پاکستان کے بجٹ اور قرضوں کے انتظام کے لیے اہم ہے، کیونکہ مسلسل خسارے والے اداروں کے لیے حکومتی گرانٹس، قرضے، ضمانتیں یا دوسری معاونت مالی دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ تازہ جائزہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک طرف متعدد ادارے قابل ذکر منافع اور حکومت کو ادائیگیاں کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف خسارے والے اداروں کی اصلاح اور مالی خطرات میں کمی اب بھی بڑی پالیسی ترجیح ہے۔