ناگویا: پاکستان نے 20ویں ایشین گیمز کے مردوں کے ہاکی مقابلے میں جنوبی کوریا کو 5-3 سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا۔ یہ کامیابی پاکستان کے لیے 12 سال بعد ایشین گیمز ہاکی میں پہلا میڈل ہے اور ٹیم نے میچ میں دو گول کے خسارے سے واپس آ کر نتیجہ اپنے حق میں کیا۔

پاکستان نے چوتھے منٹ میں سفیان خان کے پنالٹی کارنر پر کیے گئے گول سے برتری حاصل کی، لیکن جنوبی کوریا نے پہلے کوارٹر ہی میں گینگسان لی کے ذریعے مقابلہ برابر کر دیا۔ دوسرے کوارٹر میں یونگ بوک کم اور جہون یانگ کے گولز سے کوریا نے 3-1 کی برتری قائم کر لی۔ پاکستان نے وقفے سے عین پہلے عبد الرحمان کے پنالٹی کارنر گول کے ذریعے فرق 3-2 کر دیا۔

تیسرا کوارٹر بغیر کسی گول کے گزرا، تاہم آخری کوارٹر میں پاکستانی ٹیم نے فیصلہ کن حملے کیے۔ رانا وحید اشرف نے 52ویں منٹ میں گول کر کے اسکور 3-3 کیا اور صرف دو منٹ بعد دوبارہ گیند جال میں پہنچا کر پاکستان کو پہلی بار دوسرے ہاف میں برتری دلا دی۔ میچ کے 59ویں منٹ میں حنان شاہد نے پانچواں گول کر کے کامیابی یقینی بنا دی۔

پاکستان نے گروپ مرحلے میں پول بی میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی اور سیمی فائنل میں بھارت سے 4-3 سے ہارنے کے بعد کانسی کے تمغے کے مقابلے میں جنوبی کوریا کا سامنا کیا۔ ٹورنامنٹ میں پاکستان نے تھائی لینڈ، ازبکستان اور چین سمیت متعدد حریفوں کے خلاف فتوحات حاصل کیں، جبکہ سیمی فائنل میں معمولی فرق سے شکست نے اسے طلائی تمغے کی دوڑ سے باہر کیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور جیو نیوز دونوں نے نتیجے کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر نے ٹیم اور آفیشلز کو مبارک باد دیتے ہوئے اسے قومی ہاکی کی بحالی کے لیے حوصلہ افزا نتیجہ قرار دیا۔ کانسی کا تمغہ فوری طور پر پاکستان کو ایشین ہاکی کی سابق بالادستی واپس نہیں دلاتا، لیکن طویل عرصے بعد براعظمی کھیلوں کے پوڈیم پر واپسی قومی ٹیم کے حالیہ سفر میں اہم پیش رفت ہے۔