ناگویا: پاکستان کی مردوں کی اسکواش ٹیم نے 20ویں ایشین گیمز کے کوارٹر فائنل میں جنوبی کوریا کو 2-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ ناگویا کنجو فتو ایرینا میں کھیلے گئے مقابلے میں محمد اشعب عرفان اور نور زمان نے اپنے اپنے سنگلز میچ جیت کر پاکستان کو فیصلہ کن برتری دلائی، جس کے باعث تیسرے میچ کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
پہلے مقابلے میں محمد اشعب عرفان نے جنوبی کوریا کے نا جویونگ کے خلاف آغاز ہی سے دباؤ برقرار رکھا۔ انہوں نے پہلا گیم 11-5 سے جیتا، جبکہ اگلے دونوں گیمز میں کوریائی کھلاڑی نے مزاحمت کی، تاہم اشعب نے دونوں مرتبہ 11-8 سے کامیابی حاصل کر کے میچ 3-0 سے اپنے نام کیا۔ اس فتح سے پاکستان کو کوارٹر فائنل ٹائی میں 1-0 کی برتری مل گئی۔
دوسرے میچ میں نور زمان کا سامنا او سیوجن سے ہوا۔ نور نے پہلے دو گیمز 11-4 اور 11-5 سے جیت کر واضح برتری قائم کی، لیکن جنوبی کوریائی کھلاڑی نے تیسرا گیم 11-8 سے جیت کر مقابلہ جاری رکھا۔ نور زمان نے چوتھے گیم میں دوبارہ کنٹرول حاصل کیا اور 11-2 کی یکطرفہ جیت کے ساتھ میچ 3-1 سے ختم کر دیا۔
پاکستان کی 2-0 کی مجموعی کامیابی نے ٹیم کو سیمی فائنل تک پہنچا دیا، جس کے ساتھ کم از کم کانسی کا تمغہ بھی یقینی ہو گیا ہے۔ پاکستان کی ٹیم میں نور زمان، محمد اشعب عرفان، ناصر اقبال اور عاصم خان شامل ہیں۔ کوارٹر فائنل میں ابتدائی دو میچ جیت جانے کے باعث باقی کھلاڑیوں کو کورٹ میں اترنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
سیمی فائنل میں پاکستان کا مقابلہ ہانگ کانگ، چین کی ٹیم سے ہونا ہے۔ ہانگ کانگ کے اسکواڈ میں تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے اگلا مرحلہ زیادہ سخت متوقع ہے۔ پاکستانی ٹیم کی موجودہ فارم حوصلہ افزا رہی ہے، خاص طور پر نور زمان اور اشعب عرفان نے انفرادی اور ٹیم مقابلوں میں مسلسل نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔
اشعب عرفان اور نور زمان اس سے قبل مردوں کے انفرادی اسکواش مقابلوں میں بھی پاکستان کے لیے تمغے حاصل کر چکے ہیں۔ ٹیم ایونٹ میں سیمی فائنل تک رسائی نے پاکستان کے مجموعی تمغوں میں مزید اضافے کی بنیاد رکھ دی ہے، تاہم فائنل میں جگہ بنانے کے لیے ہانگ کانگ کے خلاف جیت ضروری ہوگی۔
ایشین گیمز میں اسکواش پاکستان کے روایتی مضبوط کھیلوں میں شمار ہوتا ہے۔ موجودہ ٹیم کی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان مختلف کھیلوں میں تمغوں کے لیے کوشش کر رہا ہے، اور مردوں کی ٹیم اسکواش میں یہ کامیابی پاکستان کے لیے ایک اور یقینی پوڈیم پوزیشن کا باعث بنی ہے۔

