اسلام آباد میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جمہوریہ کوریا کے سفیر ہان سنگ ہو کے درمیان سپریم کورٹ میں ہونے والی ملاقات میں عدالتی شعبے میں ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی اور ریڈیو پاکستان کے مطابق ملاقات کا خاص محور عدالتی آٹومیشن، ٹیکنالوجی کی مدد سے عدالتی انتظام، ڈیجیٹل انضمام اور دونوں ملکوں کی اعلیٰ عدالتوں کے درمیان تجربات کے تبادلے کو فروغ دینا تھا۔
ملاقات میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور وزارت خارجہ کے ایک سینئر نمائندے نے بھی شرکت کی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ کے عدالتی انتظام اور آٹومیشن کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ قریبی ادارہ جاتی رابطہ پاکستان کی جاری ڈیجیٹل اصلاحات میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عدلیہ حالیہ برسوں میں مقدمات کی ڈیجیٹل فائلنگ، ریکارڈ مینجمنٹ، مقدمات کی نگرانی اور عدالتی کارروائیوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
اے پی پی کے مطابق ملاقات میں ایشیا و بحرالکاہل کے چیف جسٹسز کی 20ویں کانفرنس کا بھی حوالہ دیا گیا، جو سیول میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سپریم کورٹ پاکستان کی نمائندگی کی اور جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ کے نیشنل کورٹ ایڈمنسٹریشن سے وابستہ جسٹس نو گیونگ پل کے ساتھ عدالتی انتظام، ڈیجیٹل تبدیلی اور ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے کے موضوعات پر بات چیت کی تھی۔ تازہ ملاقات کو انہی روابط کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستانی عدالتی نظام میں آٹومیشن کا مقصد صرف کاغذی کارروائی کم کرنا نہیں بلکہ مقدمات کے بہاؤ، ریکارڈ تک رسائی، عدالتی اوقات کے بہتر استعمال اور سائلین کے لیے معلومات کی دستیابی کو بہتر بنانا بھی ہے۔ تاہم ملاقات میں کسی مخصوص سافٹ ویئر، مالی معاہدے، ٹیکنالوجی خریداری یا عمل درآمد کی حتمی مدت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے فی الحال اسے تعاون بڑھانے اور تجربات کے تبادلے کی سطح پر ہونے والی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی مکمل منصوبے کے باضابطہ آغاز کے طور پر۔
جنوبی کوریا عدالتی انتظام میں ڈیجیٹل نظاموں کے وسیع استعمال کے لیے جانا جاتا ہے، جبکہ پاکستان اپنی عدالتوں میں ڈیجیٹل انضمام کو مرحلہ وار وسعت دے رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ رابطہ مستقبل میں تربیت، تکنیکی مشاورت، بہترین طریقہ کار کے تبادلے اور عدالتی اداروں کے درمیان براہِ راست شراکت کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ کسی رسمی معاہدے یا عملی پروگرام کی تفصیلات متعلقہ اداروں کے باضابطہ اعلانات سے واضح ہوں گی۔

