پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) نے بند ہونے کے باوجود گزشتہ تین مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 79.3 ارب روپے کا نقصان کیا ہے، جس میں سب سے بڑا حصہ پرانے قرضوں پر سود کی ادائیگی کا ہے۔ وزارت صنعت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023-24 سے 2025-26 کے درمیان پی ایس ایم کے نقصانات جاری رہے، جبکہ مل جون 2015 سے عملی طور پر بند ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق تین سال کے 79.3 ارب روپے کے مجموعی نقصان میں تقریباً 57.4 ارب روپے، یعنی لگ بھگ 72 فیصد، سود کی لاگت پر مشتمل تھے۔ صرف مالی سال 2025-26 میں تقریباً 24 ارب روپے کا نقصان رپورٹ ہوا۔ اسی سال سودی اخراجات 17.7 ارب روپے رہے، جن میں تقریباً 11.8 ارب روپے سرکاری قرض اور 5.2 ارب روپے کمرشل بینک قرضوں کے سود سے متعلق تھے۔
بند یونٹ کے باوجود تنخواہوں اور یوٹیلیٹی اخراجات کا بوجھ بھی برقرار رہا۔ وزارت صنعت کے مطابق تین مالی سال میں تقریباً 3.9 ارب روپے ملازمین کی تنخواہوں جبکہ 9.1 ارب روپے ایندھن، بجلی، پانی اور گیس کے اخراجات پر خرچ ہوئے۔ 2025-26 میں تنخواہوں کی ادائیگی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہوئی، اور یوٹیلیٹی اخراجات میں بھی کمی آئی، لیکن قرضوں پر سود مجموعی مالی بوجھ کا بڑا سبب رہا۔
سرکاری اداروں کی نگرانی کرنے والے سنٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے پی ایس ایم کے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کی سفارش کی تھی۔ رپورٹ شدہ اعداد کے مطابق مالی سال 2024-25 تک اسٹیل ملز کا کیش ڈیولپمنٹ لون تقریباً 108 ارب روپے تھا، جبکہ بینک قرضے بھی 40 ارب روپے سے زیادہ تھے۔ مانیٹرنگ یونٹ نے قرض کو ایکویٹی میں تبدیل کرنے، واجبات کی تنظیم نو اور بعض ذمہ داریوں کو الگ ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کرنے جیسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
پی ایس ایم کی پیداواری سرگرمی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے معطل ہے، اس لیے موجودہ مالی نقصان عملی پیداوار کے بجائے ماضی کے قرض، سود، تنخواہوں اور بنیادی انتظامی اخراجات سے جڑا ہوا ہے۔ سنٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے متنبہ کیا ہے کہ قرض اور سبسڈی ڈھانچے میں اصلاح کے بغیر یہ ادارہ سرکاری مالیات پر بوجھ بنا رہے گا۔ تاہم کسی نئی بحالی، نجکاری یا شراکت داری کے حتمی فیصلے کے بارے میں تازہ رپورٹ میں کوئی حتمی منظوری درج نہیں کی گئی۔

