راولپنڈی: پاکستان اور سوڈان نے سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور ادارہ جاتی تعاون کے شعبوں میں دوطرفہ روابط مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اتفاق چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور جمہوریہ سوڈان کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل پولیس بابیکر سامرا مصطفیٰ علی کے درمیان راولپنڈی میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آیا۔
سرکاری بیان کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی سکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سوڈان کے ساتھ پاکستان کے روابط مزید گہرے کرنے کی خواہش کا اعادہ کیا اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
سوڈانی وزیر داخلہ نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کیا۔ ملاقات میں تعاون کے کسی نئے معاہدے یا مشترکہ آپریشن کی مخصوص تفصیل جاری نہیں کی گئی، اس لیے پیش رفت کو فی الحال سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر تعاون بڑھانے کے عزم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سوڈان طویل داخلی تنازع اور انسانی بحران سے گزر رہا ہے، جبکہ پاکستان مختلف بین الاقوامی فورمز پر سوڈان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اظہار کرتا رہا ہے۔ سوڈانی وزیر داخلہ کے موجودہ دورے کے دوران پاکستانی سیاسی اور سکیورٹی قیادت کے ساتھ متعدد ملاقاتیں اسی وسیع تر دوطرفہ رابطے کا حصہ ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق انسداد دہشت گردی میں حاصل تجربہ، ادارہ جاتی تربیت اور سکیورٹی صلاحیت ایسے شعبے ہیں جہاں شراکت دار ممالک کے ساتھ تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی ممکنہ تربیتی، تکنیکی یا عملی پروگرام کی حتمی نوعیت متعلقہ حکومتوں اور اداروں کے آئندہ فیصلوں سے واضح ہوگی۔
ملاقات میں علاقائی اور عالمی سکیورٹی کی بدلتی صورتحال پر گفتگو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کو روایتی سفارتی رابطوں سے آگے سکیورٹی تعاون تک وسعت دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ آئندہ ادارہ جاتی رابطے اور طے ہونے والے عملی اقدامات اس تعاون کی رفتار اور دائرہ کار متعین کریں گے۔
