اسلام آباد: دفتر خارجہ نے امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے بعد واضح کیا ہے کہ پاکستان واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو کسی ایک جماعت یا حکومت سے وابستہ نہیں سمجھتا اور مختلف امریکی انتظامیہ کے ساتھ وسیع البنیاد رابطے کی پالیسی جاری رکھے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ امریکا پاکستان کے لیے تجارت، سرمایہ کاری، سلامتی، انسداد دہشت گردی اور معدنیات میں سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں اہم شراکت دار ہے۔
ترجمان نے امریکی انتخابات کو امریکا کا داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں مختلف امریکی حکومتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں اور آئندہ بھی یہی طرز عمل جاری رہے گا۔ یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکی کانگریس میں سیاسی توازن تبدیل ہوا ہے، تاہم دفتر خارجہ نے کسی جماعت کے انتخابی نتیجے پر تبصرہ کرنے کے بجائے دوطرفہ تعلقات کے ادارہ جاتی تسلسل پر زور دیا۔
بریفنگ میں ایک الگ معاملے پر ترجمان نے تصدیق کی کہ پاکستان امریکی حکام کے ساتھ ان افغان شہریوں کی ممکنہ منتقلی کے منصوبے پر بات چیت کر رہا ہے جنہیں امریکا سے نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ زیر غور ہے، متعلقہ فریقوں سے مشاورت جاری ہے اور ابھی کوئی حتمی سمجھوتا نہیں ہوا۔ اس لیے ممکنہ انتظام کی نوعیت یا پاکستان کے راستے افغانستان منتقلی کے طریقہ کار کو طے شدہ فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
دفتر خارجہ نے خلیجی خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے پرامن حل کی حمایت بھی دہرائی۔ ترجمان کے مطابق پاکستان قطر سمیت ان سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو فریقین کو مذاکرات اور قابل قبول تصفیے کے قریب لا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جوہری معاملہ مذاکرات کے اہم اختلافی نکات میں شامل ہے اور پاکستان ایسا حل چاہتا ہے جو متعلقہ بین الاقوامی فریم ورک اور فریقین کی باہمی رضامندی کے مطابق ہو۔
ترجمان نے بابا گورو نانک کے 557ویں یوم پیدائش کی تقریبات کے لیے سکھ یاتریوں کو سہولت دینے کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ننکانہ صاحب میں انتظامات کیے جا رہے ہیں اور پاکستان بھارت سمیت دیگر ممالک سے آنے والے یاتریوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے۔ دفتر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ نئی دہلی میں 20 سے 22 نومبر تک ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سولائزیشن فورم کی بھارتی دعوت موصول ہو چکی ہے، تاہم شرکت کے بارے میں فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
