اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 2 لاکھ میٹرک ٹن فاضل چینی کی برآمد کے لیے طریقہ کار کی منظوری دے دی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے فاضل چینی برآمد کے اجلاس میں برآمدی انتظامات کو حتمی شکل دی گئی اور متعلقہ وزارتوں کو باقی رسمی کارروائی تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

جیو نیوز کے مطابق اجلاس میں چینی کی مقامی قیمتوں کی مسلسل نگرانی کے لیے ایک مانیٹرنگ کمیٹی بھی منظور کی گئی، تاکہ برآمد کے دوران اندرون ملک صارفین کے لیے رسد اور قیمت پر دباؤ کو دیکھا جا سکے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق محدود برآمد سے شوگر انڈسٹری اور گنے کے کاشت کاروں کی نقدی ضروریات میں مدد، اضافی ذخیرے میں کمی اور زرمبادلہ آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں چینی کے ذخائر 26 لاکھ ٹن سے زیادہ ہیں۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے کم از کم 10 لاکھ ٹن برآمد کی اجازت کا مطالبہ کیا تھا، جسے اس نے اضافی اسٹاک اور صنعت کی لیکویڈیٹی سے جوڑا۔ تاہم حکومت نے ابتدائی طور پر 2 لاکھ ٹن کی محدود مقدار پر پیش رفت کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے عہدیدار نے اہم مشاورتی عمل میں صنعت کو مناسب نمائندگی نہ ملنے کا بھی مؤقف اختیار کیا۔

چینی کی برآمد کا معاملہ پاکستان میں اس لیے حساس رہتا ہے کہ مقامی قیمتیں، گنے کی ادائیگیاں، ذخیرہ اور برآمدی اجازت ایک دوسرے سے براہ راست جڑے ہوتے ہیں۔ ماضی میں پیداوار اور دستیابی کے اندازوں میں فرق کے باعث حکومت کو درآمد اور برآمد دونوں کے فیصلوں پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔ اسی لیے موجودہ فیصلہ مانیٹرنگ میکانزم کے ساتھ کیا گیا ہے۔

منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ تمام 2 لاکھ ٹن چینی فوری طور پر برآمد ہو چکی ہے۔ متعلقہ وزارتوں کو رسمی کارروائی، کوٹے اور دیگر انتظامی مراحل مکمل کرنا ہوں گے۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ مقامی قیمتوں اور دستیابی پر نظر رکھی جائے گی، جس کے بعد برآمدی پالیسی کے اگلے مراحل طے کیے جا سکتے ہیں۔