پاکستان میں زرمبادلہ اور بیرونی ادائیگیوں کے فوری دباؤ میں کمی کے بعد معاشی بحث کا مرکز استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق ملک نے حالیہ برسوں کے عدم استحکام سے نکلنے میں پیش رفت کی ہے، لیکن اب اصل چیلنج ایسی سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی نمو حاصل کرنا ہے جو مستقبل میں دوبارہ مالیاتی یا بیرونی ادائیگیوں کے بحران کو جنم نہ دے۔

رپورٹ میں دیے گئے اعداد کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا اور مالی سال میں ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ اسی رپورٹ میں 15 مئی تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.1 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں سمیت مجموعی ذخائر 22.6 ارب ڈالر بتائے گئے ہیں۔ یہ اعداد ایکسپریس کی شائع شدہ معاشی رپورٹ سے منسوب ہیں اور انہیں الگ سرکاری ڈیٹا سیریز کی نئی تصدیق کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

رپورٹ نے عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے اصلاحاتی پروگرام، مہنگائی میں کمی، نمو میں بہتری اور ذخائر میں توقع سے زیادہ اضافے کے اعتراف کا بھی ذکر کیا۔ اس کے ساتھ بنیادی نکتہ یہ رکھا گیا ہے کہ بیرونی دباؤ میں عارضی کمی کو آخری معاشی کامیابی نہیں سمجھا جا سکتا۔ نوجوان آبادی کے لیے روزگار اور معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے پیداوار اور سرمایہ کاری کی رفتار کو مسلسل بڑھانا ضروری ہوگا۔

پاکستانی معیشت کا دیرینہ مسئلہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ نمو تیز ہونے پر درآمدات بڑھتی ہیں، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، روپے پر دباؤ اور ذخائر میں کمی دوبارہ سامنے آ سکتی ہے۔ صرف درآمدات محدود کرنا وقتی ریلیف دے سکتا ہے، لیکن اس سے سرمایہ کاری، پیداوار اور مجموعی سرگرمی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس برآمدات کا مستقل اضافہ نمو کے ساتھ زرمبادلہ بھی فراہم کر سکتا ہے۔

رپورٹ نے اطلاعاتی ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ خدمات، انجینئرنگ اور ڈیجیٹل تجارت کو ایسے شعبے قرار دیا جہاں نوجوان افرادی قوت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی قابلِ اعتماد اور مسابقتی توانائی، ٹیکس نیٹ میں وسعت اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کو پائیدار ترقی کے لیے اہم بتایا گیا ہے۔ یہ نکات کسی نئی حکومتی پالیسی کے اعلان کے بجائے معاشی ساخت اور دستیاب اعداد کی بنیاد پر پیش کردہ تجزیاتی ترجیحات ہیں؛ ان کے عملی نتائج کا دارومدار آئندہ پالیسی، سرمایہ کاری اور برآمدی کارکردگی پر ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک