پاکستان اور تاجکستان نے دوطرفہ تجارتی اور معاشی روابط کو مزید مضبوط بنانے، کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست رابطے بڑھانے اور زراعت و خوراک سے متعلق شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاق اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور پاکستان میں تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زادہ کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔ دونوں جانب سے موجودہ معاشی تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے تجارت کو وسعت دینے کے لیے مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق زیادہ کاروباری رابطوں اور تجارت کی نئی راہوں کی تلاش کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکتی ہے۔
ملاقات میں زراعت، فوڈ پروسیسنگ، لائیوسٹاک، زرعی ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن کو ممکنہ تعاون کے اہم شعبوں کے طور پر نمایاں کیا گیا۔ ان شعبوں میں تکنیکی معلومات، پیداواری طریقوں اور منڈی تک رسائی سے متعلق تعاون دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور زرعی شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
تاجک سفیر نے دوطرفہ تجارت کو بحال اور وسیع کرنے کے لیے متبادل راستوں اور نئی تجارتی راہوں کی تلاش کی اہمیت پر زور دیا۔ وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے معاشی روابط کے تناظر میں بہتر نقل و حمل، تجارتی سہولت کاری اور کاروباری وفود کا تبادلہ عملی پیش رفت کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔
زرعی مصنوعات اور خوراک کی تجارت میں معیار، سرٹیفکیشن، کولڈ چین اور رسد کے انتظام جیسے عملی معاملات بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر متعلقہ ادارے ان رکاوٹوں کے لیے مشترکہ حل تیار کریں تو زرعی پیداوار اور ویلیو ایڈڈ اشیا کی باہمی تجارت میں اضافہ ممکن ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان کاروبار سے کاروبار روابط بڑھانے کے لیے نمائشوں، تجارتی وفود، مشترکہ اجلاسوں اور نجی شعبے کے رابطہ پلیٹ فارم مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس سے کمپنیوں کو طلب، ضوابط اور ممکنہ شراکت داروں کے بارے میں براہِ راست معلومات مل سکیں گی۔
ملاقات میں ظاہر کیے گئے عزم کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے آئندہ اقدامات، ذمہ دار اداروں اور قابلِ پیمائش اہداف کا تعین ضروری ہوگا۔ زراعت اور خوراک کے منتخب شعبوں میں ابتدائی مشترکہ منصوبے وسیع تر اقتصادی تعاون کے لیے بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔




