اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے پاس موجود تقریباً 108 ہزار میٹرک ٹن درآمدی چینی کو برآمد کرنے کے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ذخیرے کی مدتِ استعمال ختم ہونے سے پہلے اسے مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا اور سرکاری خزانے کو ممکنہ نقصان سے بچانا ہے۔

وفاقی کابینہ کو دی گئی بریفنگ کے مطابق گزشتہ برس چینی کی مقامی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے باعث حکومت نے درآمد کی اجازت دی تھی۔ ٹی سی پی نے مجموعی طور پر تقریباً 300 ہزار ٹن چینی درآمد کی، جس میں سے لگ بھگ 192 ہزار ٹن مقامی مارکیٹ میں فروخت ہوئی، جبکہ تقریباً 108 ہزار ٹن ذخیرہ باقی رہ گیا۔ حکام کے مطابق باقی چینی کی دو سالہ شیلف لائف ختم ہونے کے قریب ہے، اس لیے اسے طویل عرصے تک گوداموں میں رکھنا مالی اور معیار دونوں حوالوں سے خطرناک ہو سکتا ہے۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ مقامی سطح پر پہلے بھی اس ذخیرے کی فروخت کی کوشش کی گئی لیکن موصول ہونے والی بولیاں درآمدی لاگت سے نمایاں طور پر کم تھیں۔ دوسری جانب ذخیرہ برقرار رکھنے پر مارک اپ اور گودام اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قیمتوں میں بہتری کے باعث برآمدی بولی کے ذریعے اصل لاگت اور کیرینگ کاسٹ کا زیادہ حصہ واپس حاصل کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ چینی درآمد کرنے اور اب اسے برآمد کرنے کے فیصلے ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ان کے مطابق درآمد اس وقت کی گئی جب مقامی پیداوار کم تھی اور قیمتوں میں تیزی آ رہی تھی، جبکہ موجودہ صورتحال مختلف ہے اور باقی ذخیرے کو محفوظ مدت کے اندر فروخت کرنا ضروری ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بین الاقوامی مسابقتی بولی کے ذریعے اس ذخیرے کی فروخت کی راہ اختیار کی ہے۔ حکام نے یہ بھی تسلیم کیا کہ چینی اور دیگر بنیادی اشیا کی طلب و رسد کے تخمینوں میں ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں، اس لیے مستقبل میں زیادہ مضبوط اعداد و شمار، حقیقی مارکیٹ رجحانات اور شفاف طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔