اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک انجن والی چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے 100 روپے فی لیٹر پٹرول ریلیف کی ہدفی اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ 13 ستمبر 2026 کو جاری تفصیلات کے مطابق حکومت نے اس اقدام کو عالمی تیل منڈی میں قیمتوں کے اضافے اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے نتیجے میں کم اور متوسط آمدنی والے صارفین پر بڑھنے والے بوجھ کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور دیگر اہل دو یا تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ماہانہ زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جائے گی، جس سے ایک اہل صارف کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 2,000 روپے تک فائدہ ہو سکتا ہے۔ 800 سی سی تک کی اہل چھوٹی گاڑیوں کے لیے یہ حد 30 لیٹر ماہانہ رکھی گئی ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ ماہانہ ریلیف 3,000 روپے بنتا ہے۔ حکومت نے رجسٹریشن اور تصدیق کے لیے ڈیجیٹل طریقہ کار بھی متعارف کرانے کی تفصیلات جاری کی ہیں تاکہ رعایت مخصوص اہل گاڑی اور صارف تک پہنچ سکے۔

وزیراعظم آفس کے حوالے سے شائع رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ تیزی کا نوٹس لیتے ہوئے ہدفی ریلیف کی ہدایت کی۔ یہ اسکیم عام پٹرول قیمت میں سب کے لیے 100 روپے فی لیٹر کمی نہیں ہے؛ رعایت صرف متعین زمروں، ماہانہ مقدار اور تصدیقی شرائط کے اندر دستیاب ہوگی۔ اسی طرح بڑے انجن والی گاڑیاں اس اعلان میں شامل نہیں ہیں۔

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان شہریوں کو ترجیح دینا ہے جو موٹر سائیکل، رکشہ یا چھوٹی گاڑی روزمرہ آمدورفت اور روزگار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پٹرول کی بلند قیمت کا اثر ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی لاگت تک منتقل ہوتا ہے، اس لیے ہدفی سبسڈی کے ذریعے سرکاری خزانے پر مکمل عمومی سبسڈی کے مقابلے میں نسبتاً محدود بوجھ رکھتے ہوئے مخصوص صارفین کو سہارا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسکیم کی عملی کامیابی کا انحصار اہل صارفین کی درست شناخت، رجسٹریشن سسٹم کی کارکردگی، فیول اسٹیشنز پر تصدیقی عمل اور حکومت کی جانب سے ادائیگیوں کے تسلسل پر ہوگا۔ اعلان شدہ 100 روپے فی لیٹر رقم کو انہی مقررہ حدود کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ غیر محدود یا ہر صارف کے لیے یکساں رعایت نہیں ہے۔