اسلام آباد: پاکستان کی حکومت گیس شعبے میں جمع ہونے والے تقریباً 3.6 ٹریلین روپے کے سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے تین سالہ منصوبہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سامنے پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ 13 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ ستمبر کے آخری ہفتے میں متوقع اقتصادی جائزہ مذاکرات کے دوران مجوزہ تصفیہ طریقہ کار پر آئی ایم ایف کو بریف کرے گی، جبکہ حتمی فریم ورک قرض دہندہ ادارے سے مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔
حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گیس شعبے کا مجموعی سرکلر ڈیٹ تقریباً 3.6 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔ تازہ رپورٹ میں اس میں تقریباً 2.1 ٹریلین روپے سود یا مارک اپ اور 1.5 ٹریلین روپے اصل واجبات بتائے گئے ہیں۔ یہ بوجھ ٹیرف میں فرق، واجبات کی عدم وصولی، پالیسی سے متعلق اخراجات اور مہنگی درآمدی ایل این جی کے اثرات سمیت مختلف عوامل سے بڑھا۔ بعض سرکاری دستاویزات اور پہلے کی کمیٹی بریفنگز میں اصل رقم اور لیٹ پیمنٹ سرچارج کی تقسیم مختلف انداز سے بیان کی گئی تھی، اس لیے موجودہ اعداد کو تازہ حکومتی بریفنگ کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت گیس کمپنیوں کے ڈیویڈنڈز سے تقریباً 840 ارب روپے حاصل کرنے، پیٹرولیم لیوی کے ذریعے 270 ارب روپے جمع کرنے اور قطر سے اضافی ایل این جی کارگوز مؤخر کرنے سے تقریباً 310 ارب روپے کا بوجھ کم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاور سیکٹر کے ٹیک آر پے انتظامات سے 15 ارب روپے اور ایل این جی لاگت کی مکمل وصولی سے 60 ارب روپے کے ممکنہ اثر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ حکومت سودی حصے کے تصفیے کے لیے بھی طریقہ کار پر کام کر رہی ہے۔
منصوبے کا ایک اہم پہلو صارفین پر ممکنہ اثر ہے۔ اگر ایل این جی کی مکمل لاگت گیس نرخوں میں منتقل کی جاتی ہے تو گھریلو اور تجارتی صارفین کے بل بڑھ سکتے ہیں اور مہنگائی پر اضافی دباؤ آ سکتا ہے۔ اسی لیے حکام کے مطابق قیمتوں اور مالیاتی استحکام کے درمیان توازن پر آئی ایم ایف سے مشاورت کی جائے گی۔ ابھی یہ منصوبہ حتمی منظوری نہیں بلکہ مذاکرات کے لیے مجوزہ فریم ورک ہے، اس لیے اس کے اجزا اور سالانہ اہداف جائزہ مذاکرات کے بعد تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔




