پاکستان کو یورپی یونین کی منڈی میں GSP+ کے تحت حاصل ترجیحی تجارتی رسائی برقرار رکھنے کے لیے نئے قانونی فریم ورک کے تحت دوبارہ درخواست دینا ہوگی۔ یورپی یونین کا نیا جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز نظام یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگا اور موجودہ GSP+ ممالک کو 31 دسمبر 2028 تک نئی درخواست جمع کرانے کے لیے عبوری مدت دی گئی ہے۔ اس دوران پاکستان کو موجودہ ترجیحات ملتی رہیں گی، بشرطیکہ وہ اپنی موجودہ ذمہ داریوں کی پابندی جاری رکھے۔

نئے قواعد کے تحت GSP+ کے لیے متعلقہ بین الاقوامی کنونشنز کی تعداد 27 سے بڑھ کر 32 ہو جائے گی۔ دوبارہ درخواست کے ساتھ ایک مستقبل پر مبنی ایکشن پلان بھی درکار ہوگا جس میں یہ بتایا جائے گا کہ پاکستان انسانی حقوق، محنت کے معیار، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور بہتر طرز حکمرانی سے متعلق تمام ضروری معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد کیسے یقینی بنائے گا۔ یورپی یونین کے مطابق سابقہ رکنیت خود بخود نئے نظام میں منتقل نہیں ہوگی اور نئی قانونی بنیاد کے تحت منظوری دوبارہ حاصل کرنا ہوگی۔

یورپی یونین کی سرکاری ریگولیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ جو ممالک 31 دسمبر 2026 کو موجودہ GSP+ سے فائدہ اٹھا رہے ہوں گے اور یہ سہولت جاری رکھنا چاہتے ہیں، انہیں 31 دسمبر 2028 تک نئی درخواست دینی ہوگی۔ درخواست جمع ہونے کے بعد یورپی کمیشن اس کا جائزہ لے گا اور اس عمل کے دوران ترجیحی سہولیات برقرار رہ سکتی ہیں۔ اس طرح پاکستان کو فوری طور پر سہولت ختم ہونے کا سامنا نہیں، لیکن 2029 کے بعد اس کا تسلسل نئی شرائط کی تکمیل اور یورپی منظوری سے مشروط ہوگا۔

پاکستان کے لیے یہ معاملہ معاشی طور پر اہم ہے کیونکہ یورپی یونین ملک کی بڑی برآمدی منڈیوں میں شامل ہے۔ 2024 میں پاکستان کی تقریباً 7.5 ارب یورو مالیت کی اشیا GSP+ ترجیحات کے دائرے میں یورپی منڈی تک پہنچیں، جن میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات نمایاں تھے۔ اسی عرصے میں ٹیرف میں رعایت کی مالیت تقریباً 732 ملین یورو بتائی گئی۔ اس لیے نئے فریم ورک کی شرائط صرف سفارتی یا قانونی معاملہ نہیں بلکہ برآمدات، روزگار اور صنعتی مسابقت سے براہ راست جڑی ہوئی ہیں۔

یورپی یونین کی حالیہ نگرانی میں پاکستان کی بعض قانونی اور پالیسی پیش رفت تسلیم کی گئی، تاہم انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، بنیادی آزادیوں، خواتین اور بچوں کے حقوق، جبری مشقت، اقلیتوں کے تحفظ اور احتسابی اداروں کی آزادی سے متعلق تحفظات بھی درج کیے گئے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان جائزوں میں مثبت پیش رفت کے اعتراف کا خیرمقدم کیا، ساتھ ہی بعض تنقیدی نکات کو غیر متوازن قرار دیا تھا۔ حکومت نے یورپی اداروں کے ساتھ رابطہ جاری رکھنے اور متعلقہ کنونشنز پر عمل درآمد بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

وزارت تجارت نئے GSP+ فریم ورک کے مطابق ایکشن پلان کی تیاری پر کام شروع کر چکی ہے۔ اگلے دو برس پاکستان کے لیے اس لحاظ سے اہم ہوں گے کہ وہ نہ صرف مطلوبہ کنونشنز کی قانونی توثیق اور پالیسی مطابقت مکمل کرے بلکہ عملی نفاذ، نگرانی اور رپورٹنگ کے ایسے شواہد بھی فراہم کرے جو یورپی کمیشن کے جائزے میں قابل قبول ہوں۔