چراٹ: پاکستان اور تاجکستان کی افواج کے درمیان دوطرفہ انسداد دہشت گردی مشق ’دوستی سوم‘ اسپیشل آپریشنز اسکول چراٹ میں مکمل ہوگئی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان انسداد دہشت گردی کی مشترکہ مشق کا تیسرا ایڈیشن تھا، جس کا مقصد عملی تجربات اور بہترین طریقہ کار کا تبادلہ کرنا تھا۔

مشق کے دوران دونوں افواج کے اہلکاروں نے انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے اور مختلف عملی ڈرلز اور طریقہ کار کو بہتر بنانے پر کام کیا۔ تربیتی سرگرمیوں میں باہمی سیکھنے، پیشہ ورانہ مہارت میں اضافے اور مشترکہ ماحول میں کارروائیوں سے متعلق صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رہی۔

سرکاری بیان کے مطابق مشق کا ایک اہم مقصد جنگی مہارتوں کو بہتر بنانا اور دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں کو ایک دوسرے کے انسداد دہشت گردی کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ اس نوعیت کی مشترکہ تربیت مختلف آپریشنل ماحول میں استعمال ہونے والے طریقہ کار کا تقابلی جائزہ لینے اور عملی سطح پر رابطے کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔

پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دفاعی تعاون میں تربیت اور انسداد دہشت گردی کے شعبے اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک وسطی اور جنوبی ایشیا کے ایسے خطوں سے منسلک ہیں جہاں سرحدی سلامتی، شدت پسندی اور دہشت گردی سے متعلق خطرات نے طویل عرصے سے علاقائی سلامتی کی پالیسیوں کو متاثر کیا ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں اسی وسیع تر دفاعی رابطے کا حصہ ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ’دوستی سوم‘ نے پاکستان اور تاجکستان کے دیرینہ فوجی تعاون کی عکاسی کی اور دونوں ملکوں کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ سرکاری رپورٹ میں مشق میں شریک اہلکاروں کی تعداد یا مخصوص تربیتی مراحل کی تفصیلی فہرست فراہم نہیں کی گئی، اس لیے ان پہلوؤں سے متعلق کوئی اضافی دعویٰ نہیں کیا گیا۔

مشترکہ مشقوں کی عملی اہمیت اس بات میں ہوتی ہے کہ مختلف افواج ایک دوسرے کے تجربات، تربیتی معیارات اور آپریشنل طریقوں کو سمجھ سکیں۔ چراٹ میں مکمل ہونے والی مشق کے بعد دونوں ممالک کے دفاعی اداروں کے درمیان تربیتی تعاون اور پیشہ ورانہ تبادلے کے تسلسل کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ آئندہ سرگرمیوں کی تفصیلات متعلقہ حکام کے اعلانات سے واضح ہوں گی۔