اسلام آباد: پاکستان اور ترکیہ نے لائیوسٹاک کے شعبے میں تکنیکی تعاون اور ویکسین کی مقامی تیاری کے منصوبے پر پیش رفت کی ہے، جس کے تحت پاکستان میں منہ کھر بیماری، یعنی فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز، سے بچاؤ کی ویکسین مقامی طور پر تیار کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق اس منصوبے میں ترکیہ پاکستان کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔
اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان میں ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو سے ملاقات کی۔ ملاقات میں لائیوسٹاک شعبے کی ترقی، ویکسین کی مقامی پیداوار اور تکنیکی تربیت کے امور زیر بحث آئے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا محور مقامی صلاحیت میں اضافہ اور جانوروں کی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے تکنیکی مہارت کو بہتر بنانا ہے۔
مجوزہ تربیتی پروگرام کے تحت پاکستان پہلے مرحلے میں 30 افراد کو ترکیہ بھیجے گا۔ مجموعی منصوبے میں 100 افراد کی تربیت شامل ہے۔ اس تربیت کا مقصد ویکسین سے متعلق مقامی تکنیکی صلاحیت کو بڑھانا ہے تاکہ پاکستان بیرونی معاونت سے حاصل ہونے والی مہارت کو اپنے اداروں اور لائیوسٹاک نظام میں استعمال کر سکے۔
منہ کھر بیماری مویشیوں سے متعلق ایک اہم بیماری ہے اور اس کی روک تھام کے لیے ویکسینیشن لائیوسٹاک انتظام کا بنیادی حصہ سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کا منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں بیماری سے بچاؤ کے پروگراموں کے لیے ملکی سطح پر پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ تاہم سرکاری خبر میں ویکسین پلانٹ کی حتمی پیداواری گنجائش، لاگت، آغاز کی تاریخ یا تجارتی پیداوار کے شیڈول کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
وفاقی وزیر اور ترک سفیر کی ملاقات میں سامنے آنے والی پیش رفت پاکستان اور ترکیہ کے زرعی اور لائیوسٹاک تعاون کے ایک مخصوص تکنیکی منصوبے سے متعلق ہے۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق فوری اگلا قدم تربیتی پروگرام کا آغاز اور پاکستانی ماہرین کی ترکیہ میں تربیت ہے، جبکہ ویکسین کی مقامی پیداوار ترکیہ کی تکنیکی معاونت سے آگے بڑھائی جائے گی۔
پاکستان کے لیے لائیوسٹاک دیہی معیشت اور خوراک کے نظام کا اہم حصہ ہے، اس لیے جانوروں کی بیماریوں کی روک تھام کے لیے مقامی تکنیکی استعداد بڑھانا پالیسی سطح پر اہمیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کی عملی پیش رفت کا تعین آئندہ تربیتی مراحل، تکنیکی تعاون اور مقامی پیداوار کے انتظامات سے ہوگا۔
