اسلام آباد: وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات کے لیے مجوزہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے ابتدائی خدوخال پیش کیے ہیں، جن کے تحت پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو دو، دو نشستیں دینے کی تجویز ہے۔ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ کمیٹی میں دیگر پارلیمانی جماعتوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔
وزیر کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر متعلقہ جماعتوں کے لیے ایک، ایک نشست تجویز کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ انتخابی نظام سے متعلق اصلاحات وسیع تر سیاسی مشاورت کے ذریعے آگے بڑھائی جائیں تاکہ پارلیمانی جماعتوں کو اپنے نکات پیش کرنے کا موقع مل سکے۔
طارق فضل چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی کمیٹی میں شمولیت کے لیے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ اس مرحلے پر پی ٹی آئی کی حتمی شرکت یا کمیٹی کے تمام ارکان کے ناموں کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، اس لیے مجوزہ ساخت کو حتمی تشکیل کے بجائے زیرِ غور انتظام سمجھا جا رہا ہے۔
انتخابی اصلاحات پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں طویل عرصے سے ایک اہم موضوع رہی ہیں، خصوصاً انتخابات کے انعقاد، انتخابی قوانین، نتائج کی شفافیت اور سیاسی جماعتوں کے اعتماد سے متعلق اختلافات کے تناظر میں۔ مجوزہ کمیٹی کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مختلف جماعتیں اس فورم میں کس حد تک شریک ہوتی ہیں اور اصلاحات کے دائرہ کار پر کس حد تک اتفاق پیدا ہوتا ہے۔
حکومت کی جانب سے پیش کردہ خاکے میں بڑی جماعتوں اور نسبتاً چھوٹی پارلیمانی جماعتوں کے لیے الگ نمائندگی تجویز کی گئی ہے۔ تاہم کمیٹی کے باضابطہ قیام، ارکان کی نامزدگی، قواعدِ کار اور اصلاحات کے حتمی ایجنڈے کے بارے میں مزید تفصیلات پارلیمانی عمل مکمل ہونے کے بعد واضح ہوں گی۔
اس پیش رفت کو فی الحال ایک مجوزہ پارلیمانی انتظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ انتخابی قوانین میں کسی منظور شدہ تبدیلی کے طور پر۔ کسی بھی قانونی اصلاح کے لیے متعلقہ پارلیمانی اور آئینی طریقہ کار مکمل کرنا ضروری ہوگا۔
