پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کو بتایا ہے کہ پاکستان دنیا کی تیسری بڑی کرپٹو کرنسی مارکیٹ بن چکا ہے اور ملک میں تقریباً چار کروڑ کرپٹو اکاؤنٹس موجود ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے یہ اعداد و شمار کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیے، جہاں ڈیجیٹل کرنسی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ درآمدی موبائل فونز کی قیمت اور ٹیکس کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔
بلال بن ثاقب نے کرپٹو اکاؤنٹس کی تعداد کا موازنہ ملک کے تقریباً 60 لاکھ فعال ٹیکس دہندگان سے کیا اور کہا کہ ریگولیٹری اتھارٹی کا مقصد ورچوئل اثاثوں کے صارفین کو ضابطے اور ٹیکس نظام کے دائرے میں لانا ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں عالمی درجہ بندی کی مکمل تحقیق، دوسرے ممالک کے تقابلی اعداد و شمار، فعال صارف کی تعریف یا ایک شخص کے متعدد اکاؤنٹس کی گنتی کا طریقہ شائع نہیں کیا گیا۔ اسی لیے تیسری بڑی مارکیٹ اور چار کروڑ اکاؤنٹس کو اتھارٹی کے چیئرمین کا کمیٹی میں دیا گیا بیان سمجھا جانا چاہیے، آزادانہ طور پر تصدیق شدہ مارکیٹ مردم شماری نہیں۔
چیئرمین نے بتایا کہ پی وی اے آر اے مستقل عملہ بھرتی کر رہی ہے اور اب تک اسے مختص سرکاری بجٹ کا صرف آٹھ فیصد استعمال ہوا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے اسلامی مالیات میں عالمی مقام بنانا اور بیرون ملک سے ترسیلاتِ زر کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لانا چاہتا ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات، تھائی لینڈ، سنگاپور اور ہانگ کانگ میں متبادل مالی ٹیکنالوجی کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر پیسے کا تصور بدل رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے پاکستان کے ورچوئل اثاثہ جات شعبے میں کام کرنے کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ کی درخواستیں دی ہیں۔ بلال بن ثاقب نے خبردار کیا کہ پانچ ستمبر کے بعد غیر قانونی ڈیجیٹل اثاثہ کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس بیان سے اتھارٹی کی نگرانی اور نفاذ کی سمت ظاہر ہوتی ہے، لیکن رپورٹ میں درخواست دینے والی کمپنیوں کی تعداد، منظور شدہ لائسنسوں، نفاذ کے مخصوص طریقۂ کار یا ممکنہ سزاؤں کی تفصیل نہیں دی گئی۔
اسی اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے حکام نے کہا کہ درآمدی موبائل فونز کی قیمت طے کرنے کے لیے کسٹمز کو مناسب طریقۂ کار بنانا ہوگا۔ کمیٹی نے درآمدی فونز پر ٹیکس فوری کم کرنے کی سفارش کی اور ایف بی آر اور ٹیرف کمیشن سے رپورٹ طلب کی۔ ایف بی آر حکام نے واضح کیا کہ ٹیکس لگانے یا ختم کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، جبکہ پی ٹی اے کے مطابق ملک میں 35 کمپنیاں اسمارٹ فون تیار کر رہی ہیں۔ موبائل ٹیکس سے متعلق یہ سفارش ابھی حتمی قانونی یا مالی فیصلہ نہیں۔
کرپٹو شعبے کے لیے اصل امتحان اکاؤنٹس کی قابلِ اعتماد پیمائش، صارفین کا تحفظ، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی روک تھام، واضح لائسنسنگ اور ٹیکس قواعد کا عملی نفاذ ہوگا۔ قائمہ کمیٹی نے پی وی اے آر اے سے ایک اور بریفنگ طلب کی ہے، اس لیے آئندہ اجلاس میں اعداد و شمار کی بنیاد، کمپنیوں کی رجسٹریشن اور نفاذ کے فریم ورک کی مزید تفصیل سامنے آ سکتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ خبر اتھارٹی چیئرمین کے بیان، بجٹ استعمال، این او سی درخواستوں اور پانچ ستمبر کے بعد کارروائی کے اعلان تک محدود ہے۔
— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




