اسلام آباد: پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد قانونی اور ریگولیٹری اقدامات کی منظوری دی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ فیصلے وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اے ایم ایل-سی ایف ٹی سے متعلق نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کے 19ویں اجلاس میں کیے گئے۔
کمیٹی نے کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹس (CTR) کے لیے موجودہ رپورٹنگ حد پر نظرثانی کی تجویز منظور کی۔ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی 2021 کی رہنما ہدایات کے مطابق رپورٹنگ اداروں کے لیے نقد لین دین کی موجودہ قابل رپورٹ حد 20 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہے۔ اجلاس میں نئی حد کی حتمی رقم سے متعلق رپورٹ میں کوئی واضح عدد نہیں دیا گیا، اس لیے منظوری کو اصولی نظرثانی کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے اور نئی عملی حد متعلقہ نوٹیفکیشن یا قواعد سے واضح ہوگی۔
نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی نے پاکستان میری ٹائم زونز ایکٹ 2023 کی دفعہ 28 کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے شیڈول ون میں شامل کرنے کی تجویز بھی منظور کی۔ یہ دفعہ بحری قزاقی سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے شیڈول فور میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی، جس سے ورچوئل اثاثوں کی نگرانی کو ملک کے وسیع تر اے ایم ایل-سی ایف ٹی ریگولیٹری ڈھانچے سے جوڑنے کی سمت پیش رفت ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹس کو بھی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت تحقیقاتی یا استغاثہ اداروں کے طور پر نامزد کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی کارکردگی، ادارہ جاتی صلاحیت اور مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے فیصلوں پر بروقت عمل درآمد اور اداروں کے درمیان مضبوط رابطے پر زور دیا۔
یہ اقدامات ایسے مالی خطرات سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے ہیں جو نئی ٹیکنالوجی، ورچوئل اثاثوں اور پیچیدہ مالی لین دین کے ساتھ بدل رہے ہیں۔ اجلاس میں ایف ایم یو کی تجزیاتی اور عملی صلاحیت بڑھانے کے لیے واضح ٹائم لائن کے ساتھ روڈ میپ کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔ منظوریوں کے بعد متعلقہ قانونی اور انتظامی مراحل مکمل ہونے پر ان اقدامات کی عملی تفصیلات سامنے آئیں گی؛ اس مرحلے پر انہیں منظور شدہ پالیسی سمت اور مجوزہ قانونی شمولیت کے طور پر سمجھنا درست ہے۔
