اسلام آباد: پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ جولائی اور اگست کے دوران سالانہ بنیاد پر 18 فیصد بڑھ کر 7.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق بیرونی شعبے کے لیے ایک اہم اقتصادی اشاریہ بن گیا ہے۔
تجارتی خسارہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی مدت میں ملک کی اشیا کی درآمدات کی مالیت برآمدات سے زیادہ ہو۔ پاکستان کے لیے یہ فرق زرمبادلہ کی طلب، جاری کھاتے اور بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات سے جڑا ہوتا ہے۔ جولائی اور اگست کے مجموعی اعداد و شمار میں خسارے کا 7.1 ارب ڈالر تک پہنچنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ درآمدی بل اور برآمدی آمدن کے درمیان فاصلہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں بڑھا ہے۔
پی بی ایس کے اعداد و شمار سرکاری تجارتی ڈیٹا کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، تاہم کسی ایک دو ماہ کی مدت سے پورے مالی سال کے حتمی رجحان کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ آنے والے مہینوں میں عالمی اجناس کی قیمتیں، توانائی کی درآمدی لاگت، روپے کی قدر، مقامی صنعتی طلب اور برآمدی آرڈرز تجارتی توازن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی اقتصادی پالیسی میں برآمدات بڑھانا اور غیر ضروری درآمدی دباؤ کم کرنا طویل عرصے سے اہم اہداف رہے ہیں۔ ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، آئی ٹی سے متعلق خدمات اور دیگر برآمدی شعبوں کی کارکردگی زرمبادلہ کی آمد میں کردار ادا کرتی ہے، جبکہ تیل، مشینری، صنعتی خام مال اور دیگر ضروری اشیا درآمدی بل میں بڑا حصہ رکھتی ہیں۔
تجارتی خسارے میں 18 فیصد اضافہ پالیسی سازوں کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ بیرونی مالی استحکام کے اہداف میں درآمدات اور برآمدات کا توازن بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگلے سرکاری ماہانہ اعداد و شمار سے یہ واضح ہوگا کہ ابتدائی دو ماہ کا اضافہ عارضی تھا یا مالی سال کے وسیع تر رجحان میں تبدیل ہو رہا ہے۔ فی الحال دستیاب سرکاری ڈیٹا کے مطابق جولائی اگست کا تجارتی فرق 7.1 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔




