اسلام آباد: پاکستان میں سفر کی اوسط لاگت ستمبر 2026 میں مئی کے مقابلے میں 7.9 فیصد کم رہی ہے۔ یہ تخمینہ پاکستان اینڈ کاؤنٹنگ اور رائیڈ شیئرنگ آپریٹر بس کارو کی شراکت سے شروع کیے گئے نئے موبیلیٹی انڈیکس میں پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد مختلف ذرائع نقل و حمل کی فی کلومیٹر لاگت میں تبدیلی کو باقاعدگی سے ناپنا ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق انڈیکس آٹھ اقسام کے سفر کا احاطہ کرتا ہے: ذاتی پٹرول موٹر سائیکل، نجی رکشہ، ذاتی پٹرول کار، پبلک ٹرانسپورٹ میں فی نشست سفر، رائیڈ شیئرنگ میں فی نشست سفر، اور ایپ یا سروس کے ذریعے حاصل کی جانے والی موٹر سائیکل، رکشہ اور کار۔ مختلف طریقوں کو ایک ہی پیمانے پر رکھنے کے لیے فی کلومیٹر لاگت کو بنیادی اکائی بنایا گیا ہے۔

سفر کی لاگت میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شہر، ہر روٹ یا ہر سواری کی قیمت یکساں شرح سے کم ہوئی ہے۔ انڈیکس مختلف ذرائع نقل و حمل کے اخراجات کو مجموعی پیمانے پر دیکھتا ہے، اس لیے صارف کے حقیقی خرچ پر ایندھن کی قیمت، فاصلہ، ٹریفک، کرایہ طے کرنے کا طریقہ، گاڑی کی قسم اور شہر جیسے عوامل الگ اثر ڈال سکتے ہیں۔

پاکستان میں ٹرانسپورٹ گھرانوں اور کاروبار دونوں کے اخراجات کا اہم حصہ ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی ذاتی گاڑیوں کے ساتھ بسوں، رکشوں اور سامان کی نقل و حمل پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی طرح رائیڈ ہیلنگ اور رائیڈ شیئرنگ خدمات میں طلب، دستیاب گاڑیاں اور پلیٹ فارم کی قیمت بندی فی سفر لاگت میں اتار چڑھاؤ پیدا کرتی ہے۔

نئے انڈیکس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ عمومی مہنگائی کے اشاریوں سے الگ نقل و حرکت کے خرچ کو مخصوص انداز میں ناپنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر اس کی اشاعت تسلسل سے جاری رہتی ہے تو یہ شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ پالیسی، کاروباری اخراجات اور گھرانوں کے بجٹ پر سفر کے اثرات کو سمجھنے کے لیے ایک اضافی ڈیٹا پوائنٹ فراہم کر سکتا ہے۔

ستمبر کا 7.9 فیصد تخمینی فرق مئی کو تقابلی نقطہ بناتا ہے، اس لیے اسے سال بہ سال مہنگائی یا ملک بھر کے ہر مسافر کے حقیقی بل میں اتنی ہی کمی نہیں سمجھنا چاہیے۔ آئندہ مہینوں کے اعداد و شمار سے یہ واضح ہوگا کہ موجودہ کمی مستقل رجحان بنتی ہے یا ایندھن اور دیگر لاگتوں میں تبدیلی کے ساتھ دوبارہ پلٹتی ہے۔