اسلام آباد: پاکستان اور ترکی نے زراعت، لائیوسٹاک، خوراک کی پراسیسنگ اور زرعی تحقیق میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ مویشیوں میں منہ کھر کی بیماری، یعنی فوٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز، کے خلاف ویکسین کی پاکستان میں مقامی تیاری کے لیے بھی مشترکہ کام آگے بڑھایا جائے گا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ اتفاق وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور پاکستان میں ترکی کے سفیر عرفان نذیر اوغلو کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات کے دوران ہوا۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق دونوں جانب نے زرعی شعبے میں عملی تعاون، جدید تکنیک، تحقیق اور استعداد کار بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کی۔ پاکستان کے لیے لائیوسٹاک ایک اہم دیہی معاشی شعبہ ہے اور منہ کھر کی بیماری مویشیوں کی صحت، پیداوار اور برآمدی امکانات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ویکسین کی مقامی تیاری کی صلاحیت کو درآمدی انحصار کم کرنے اور بیماری پر قابو پانے کی طویل مدتی کوشش سے جوڑا جا رہا ہے۔

ملاقات میں پاکستانی ماہرین کی تربیت اور تکنیکی تبادلے پر بھی زور دیا گیا۔ اس نوعیت کی تربیت کا مقصد مقامی اداروں کو تشخیص، ویکسین کی تیاری، بیماریوں کی نگرانی اور جدید لائیوسٹاک انتظام کے طریقوں سے فائدہ پہنچانا ہے۔ تاہم سرکاری اعلان میں ویکسین پلانٹ کی حتمی پیداواری گنجائش، لاگت یا تجارتی پیداوار شروع ہونے کی مخصوص تاریخ نہیں بتائی گئی، اس لیے ان پہلوؤں کو آئندہ عملی معاہدوں اور منصوبہ بندی سے واضح ہونا ہوگا۔

دونوں ملکوں نے خوراک کی پراسیسنگ اور زرعی تجارت کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان اپنی زرعی برآمدات میں قدر افزائی بڑھانے، فوڈ سیفٹی کے معیارات بہتر بنانے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کو اہم سمجھتا ہے۔ ترکی کے پاس زرعی تحقیق، مشینری، فوڈ پراسیسنگ اور لائیوسٹاک مینجمنٹ کے شعبوں میں تجربہ موجود ہے جس سے مشترکہ منصوبوں کے ذریعے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

موجودہ ملاقات تعاون کی سمت اور ترجیحی شعبوں کی تصدیق کرتی ہے، مگر ہر مجوزہ منصوبے کی تکمیل، سرمایہ کاری اور پیداوار کے اہداف علیحدہ انتظامی اور تکنیکی مراحل سے مشروط ہوں گے۔ اس لیے ویکسین کی مقامی تیاری کو ایک متفقہ تعاون کے منصوبے کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے، نہ کہ پہلے سے مکمل تجارتی پیداوار کے طور پر۔