اسلام آباد: پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے موجودہ تعاون کو مزید عملی شکل دینے اور تجارتی حجم کو 2 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف پر پیش رفت تیز کرنے پر زور دیا ہے۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ازبک حکام کے درمیان رابطوں میں ترجیحی تجارتی انتظامات، کاروباری روابط، ٹرانسپورٹ اور علاقائی منڈیوں تک رسائی جیسے شعبوں کو اہم قرار دیا گیا۔

دونوں ممالک گزشتہ چند برسوں سے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی رابطہ بڑھانے کے لیے مختلف منصوبوں اور معاہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے ازبکستان وسطی ایشیا کی ایک اہم منڈی ہے، جبکہ ازبکستان پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی اور جنوبی ایشیائی منڈیوں سے رابطے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اسی پس منظر میں دوطرفہ تجارت کے ہدف کو محض برآمدات اور درآمدات کے عدد تک محدود رکھنے کے بجائے ٹرانزٹ، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

وزارت تجارت کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں نجی شعبے کے روابط بڑھانے، کاروباری وفود کے تبادلے اور ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت دستیاب مواقع سے زیادہ فائدہ اٹھانے پر توجہ دی گئی۔ دونوں جانب نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کسٹمز، سرٹیفکیشن، ٹرانسپورٹ اور ادائیگی کے نظام میں عملی رکاوٹیں کم کیے بغیر بڑے تجارتی اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

پاکستان وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے سڑک اور ریل رابطوں کے مختلف راستوں پر کام کرتا رہا ہے۔ ازبکستان کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات سے پاکستانی ٹیکسٹائل، ادویات، زرعی اور غذائی مصنوعات سمیت کئی شعبوں کو نئی منڈیاں مل سکتی ہیں، جبکہ پاکستان ازبک مصنوعات اور خام مال کے لیے بھی ایک بڑی صارف منڈی اور ٹرانزٹ راستہ بن سکتا ہے۔

دو ارب ڈالر کا عدد ایک تجارتی ہدف ہے، موجودہ مکمل شدہ سالانہ حجم نہیں۔ اس لیے اس رپورٹ میں اسے دونوں حکومتوں کی پالیسی سمت اور مطلوبہ سطح کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ہدف کے حصول کی رفتار عملی تجارتی سہولتوں، علاقائی ٹرانسپورٹ، کاروباری معاہدوں اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری پر منحصر رہے گی۔