اسلام آباد: پاکستان اور ترکی نے زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں عملی تعاون بڑھانے، بالخصوص منہ کھر بیماری یعنی فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز (FMD) کی ویکسین پاکستان میں تیار کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور پاکستان میں ترکی کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو کے درمیان 4 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے ادارہ جاتی روابط، تکنیکی تعاون اور متعلقہ وزارتوں، جامعات اور ماہرین کے براہ راست رابطوں کے ذریعے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات کو قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔ تربیت کے مجوزہ پروگرام کے تحت پاکستان نے تقریباً 100 افراد کی تربیت کے منصوبے میں ابتدائی طور پر قریب 30 شرکا ترکی بھیجنے کی تیاری سے آگاہ کیا۔ وزارتِ خارجہ نے ممکنہ ترک اداروں کی نشاندہی کی ہے جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ جامعات، ترجیحی شعبوں اور انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے رابطہ جاری ہے۔
ملاقات میں لائیو اسٹاک کی ترقی اور ایف ایم ڈی ویکسین کی مقامی پیداوار کو اہم ترجیحات قرار دیا گیا۔ وفاقی وزیر کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان میں مقامی سطح پر ایف ایم ڈی ویکسین کی تیاری کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے ترکی سے تکنیکی معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترک سفیر نے تکنیکی تعاون کی آمادگی ظاہر کی اور بتایا کہ ایک ترک تکنیکی وفد ممکنہ تعاون کے راستوں کا جائزہ لینے پاکستان آئے گا۔
دونوں جانب سے حالیہ ماہرین کے تبادلوں اور پاکستانی وفد کے ترکی کے لائیو اسٹاک شعبے کے مطالعاتی دورے پر بھی گفتگو ہوئی۔ پاکستانی وفد اپنی رپورٹ تیار کر رہا ہے تاکہ ایسے عملی شعبے متعین کیے جا سکیں جہاں ترک تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ حکام نے ایف ایم ڈی کنٹرول کو بیماری سے پاک زونز کے قیام اور گوشت کی بین الاقوامی منڈیوں، خصوصاً ترکی، تک بہتر رسائی سے بھی جوڑا۔
اجلاس میں ترکی کی ترقیاتی ایجنسی ٹیکا کے تعاون سے مظفرآباد میں قائم زیتون کے تیل کی سہولت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس سے سرکاری بیان کے مطابق تقریباً پانچ ہزار کسان مستفید ہوئے ہیں۔ پاکستان نے بلوچستان، خیبر پختونخوا، چکوال اور اٹک کے زیتون پیدا کرنے والے علاقوں میں اسی نوعیت کے منصوبے بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ دونوں ممالک نے آئندہ مرحلے میں تکنیکی ٹیموں اور مخصوص مشترکہ اقدامات کے ذریعے تعاون کو عملی شکل دینے پر زور دیا۔

